چشمہٴ معرفت — Page 237
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۷ چشمه معرفت سے ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا مصیبتیں اسلام کی راہ میں اٹھائیں اور کیسی استقامت دکھلائی اور باوجود بھوکے اور فاقہ کش ہونے کے کیسے دشمنوں سے مقابلے کئے یہاں تک کہ بت پرستی کی تاریکی کو اپنے خونوں سے دنیا کے کئی حصوں میں سے اٹھا دیا اور خدا کے دین کی خدمت میں چین کے ملک تک پہنچے اور کروڑہا انسانوں کو بت پرستی سے تائب کر کے تو حید کے نور سے منور کیا اور ہر ایک میدان میں اور ہر ایک موقعہ میں آزمائش میں ایسا اپنا صدق دکھلایا کہ (۲۳۸) اس کے تصور سے رونا آتا ہے تو کیا اُن کی نسبت کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ وہ جبر ا مسلمان کئے گئے تھے۔ فی الواقع ایمانی مراتب میں انہوں نے وہ ترقی کی تھی کہ اُن کا نمونہ ملنا مشکل ہے اُن کے صدق اور اخلاص نے تمام ممالک کو فتح کر کے دکھلا دیا اور جس جلدی سے انہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلا یا وہ بھی در حقیقت ایک معجزہ ہی تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ وید کے خادم جو برہمن اور پنڈت کہلاتے ہیں اگر ان پاک لوگوں کے مقابل پر دیکھے جائیں تو ضرور ہمیں کہنا پڑے گا کہ یہ لوگ محض دنیا پرست اور نفسانی انسان تھے تبھی تو وہ کسی دل کو فتح نہ کر سکے اور دنیا میں نہایت بد نمونه مخلوق پرستی وغیرہ کا چھوڑ گئے اور آریہ ورت کی نسل کو آتش پرستی اور بت پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی سے نہ روک سکے۔ اگر وہ لوگ روحانی آدمی ہوتے تو ضرور اُن کا اثر آریہ ورت پر پڑتا مگر جو کچھ آریہ ورت کی حالت مذہبی اعتقاد کی رو سے اب تک دیکھی جاتی ہے وہ صاف بتلا رہی ہے کہ یہ تمام لوگ خدا کی محبت سے بے بہرہ تھے انسان کی عملی حالت سے بڑھ کر کوئی امراس کے خالص ایمان پر گواہ نہیں ہو سکتا۔ عملی حالت انسان کی اس کے ایمان پر ایک مستحکم شہادت ہے۔ آج جو بیس کروڑ کے قریب یا اس سے زیادہ دنیا میں مسلمان پائے جاتے ہیں یہ انہیں لوگوں بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۳۶ یورپ کے علماء صدق دل سے اقرار کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کو عرب کی شاگردی (۲۲۸ کا فخر ہے پس کیا یہ ترقیات وہ قوم کر سکتی ہے جو جبراً تلوار سے مسلمان کئے گئے اور ابتدا میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض اکیلے تھے تو پھر جبر کرنے والی فوج کہاں سے نکل آئی ؟ منہ