چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 233

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۳ چشمه معرفت قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرنا چاہیے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہو رہے ہیں ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔ اب ہم ایک اور آیت لکھ کر منصفین سے انصاف چاہتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈر کر ہمیں جتلا ویں کہ کیا اس آیت سے جبر کی تعلیم ثابت ہوتی ہے یا برخلاف اس کے ممانعت جبر کا حکم بپایہ ثبوت پہنچتا ہے اور وہ یہ آیت ہے وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَّمَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَا مَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لا يَعْلَمُونَ - الجز نمبر ١٠ سورة التوبة ( ترجمہ ) اگر تجھ سے اے رسول کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دے دو اور اُس وقت تک اُس کو اپنی پناہ میں رکھو کہ وہ اطمینان سے خدا کے کلام کوسن سمجھ لے اور پھر اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر واپس پہنچا دو۔ یہ رعایت ان لوگوں کے حق میں اس وجہ سے کرنی ضرور ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر قرآن شریف جبر کی تعلیم کرتا تو یہ حکم نہ دیتا کہ جو کا فرقرآن شریف کو سننا چاہے تو جب وہ سن چکے اور مسلمان نہ ہو تو اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر پہنچا دینا چاہیے بلکہ یہ حکم دیتا کہ جب ایسا کا فرقا بو میں آجاوے تو وہیں اُس کو مسلمان کر لو۔ اب ہم ایک اور بات اِن جاہلوں کو سناتے ہیں کہ جو خواہ نخواہ جبر کا الزام خدا کے کلام پر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مکے کے رہنے والے کل کفار اور نیز دیہاتی اور گردنواح کے لوگ ایسے تھے کہ جنہوں نے اس زمانہ میں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ (۲۲۵) میں تھے اور کوئی جنگ شروع نہ تھا کئی مسلمان نا حق قتل کر دیئے تھے اور ان مظلوموں کا خون اُن کی گردن پر تھا اور در حقیقت وہ سب اس گناہ میں شریک تھے کیونکہ بعض قاتل اور بعض ہمراز اور بعض اُن کے معاون تھے اس وجہ سے وہ لوگ خدا کے نزدیک قتل کے لائق تھے کیونکہ اُن کی اس قسم کی شرارتیں حد سے گذر گئی تھیں ۔ علاوہ اس کے سب سے بڑا گناہ اُن کا یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے مرتکب تھے اور انہوں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ التوبة : ٦