چشمہٴ معرفت — Page 226
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۶ چشمه معرفت اُس کو پیدا کیا جو بموجب قول آریہ سماج کے ہر ایک ابتدا د نیا میں لاکھوں انسان کو یوں ہی مولی گاجر کی طرح زمین میں سے نکالتا ہے جب کہ وید کے بیان کی رو سے کروڑ ہا مرتبہ بلکہ بے شمار مرتبہ خدا نے اسی طرح دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس بات کا محتاج نہیں رہا کہ مرد عورت باہم ملیں تا بچه پیدا ہو ۔ تو پھر اسی طرح اگر یسوع بھی پیدا ہو گیا تو اس میں حرج کیا ہے ۔ اس اعتراض کی جڑھ تو صرف اسی قدر ہے کہ بغیر مرد اور عورت کے ملنے کے کیوں کر انسان پیدا ہو گیا مگر جو شخص اپنا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس سے پہلے کروڑ ہا بلکہ بے شمار مرتبہ ایسا اتفاق ہو چکا ہے کہ اسی دنیا میں یہی انسان جواب موجود ہیں بغیر مرد اور عورت کے ملنے کے پیدا ہوتے رہے ہیں وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے اور اس کا کیونکر یہ حق ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ اعتراض کرے کہ یسوع کی پیدائش خلاف قانونِ قدرت ہے۔ بڑے بڑے محقق طبیبوں نے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اس قسم کی پیدائش کی مثالیں لکھی ہیں اور نظیریں دی ہیں اور اُن کی تحقیق کے رو سے بعض اس قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں کہ قوت رجولیت اور انثیت دونوں اُن میں جمع ہوتی ہیں اور کسی تحریک سے جب اُن کی منی جوش مارے تو حمل ہو سکتا ہے اور ہندوؤں کی کتابوں میں بھی ایسی قصے پائے جاتے ہیں جیسا کہ خود وید میں یہ شرقی موجود ہے کہ اے اندر کوسیکارشی کے پوتر جس کو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ پس جب کہ اس قسم کا قصہ وید میں بھی موجود ہے اور سیانا بھاشیکار نے وضاحت سے اس قصہ کو لکھا ہے تو پھر اعتراض کرنا حیا سے دور ہے۔ نہایت کار تم یہ جواب دو گے کہ ہم اس شرقی کے اس طرح پر معنی نہیں کرتے تو یہ جواب درست نہیں ہے کیونکہ جب کہ ایک پرانا بھاھیکا ریعنی سیانا یہی معنی کر چکا ہے تو تمہاری کیا مجال کہ اُس سے روگردانی کرو۔ کیا سیا نا بھا شیکار کے مقابل پر (۲۸) دیانند کی کچھ حقیقت ہے کوئی دانا سیانا بھاشی کار کے مقابل پر دیا نند کو طفلِ مکتب بھی نہیں کہہ سکتا اور پھر وہ بھا شیکار پرانے زمانہ کا ہے اور پھر بطریق تنزل کہتے ہیں کہ جب کہ وید کی مذکورہ بالا شرتی کے سیانا بھاشی کا ر یہ معنے کر چکا ہے خواہ تم اب ان معنوں کو قبول کرو یا نہ کرو تو بہر حال