چشمہٴ معرفت — Page 218
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۸ چشمه معرفت میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا بطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے پس جب کہ ہمو جب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اُس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے اور پھر خدا کا ایسی بیگا نہ زبان میں اُن کو الہام کرنا گو یا دیدہ دانستہ اُن کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ اور اگر کہو کہ خدا اُن کو اُن کی زبان میں سمجھا دیتا تھا کہ ان عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پر میشر کا یہ عہد بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اُس کو بولنا حرام ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے آریوں کو فائدہ کیا ہے کیا جو کچھ انسان کا ہے وہ سب کچھ پر میشر کا نہیں ہے تو پھر کونسی پر میشر کی ہتک عزت ہے کہ انسان کو اُسی کی زبان میں سمجھا دے کیا ہمارا خدا ہماری دعائیں ہماری زبان میں ہی نہیں سنتا۔ پس جب کہ ہماری زبان میں ہی ہماری دعا سننے سے اُس کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو پھر ہماری زبان میں ہی ہمیں کوئی راہ راست سمجھانے سے کیوں اُس کی شان میں فرق آئے گا۔ پس یا د رکھنا چاہیے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق تو یہی عادت الہی ہے کہ وہ ہر ایک قوم کے لئے اُسی زبان میں ہدایت کرتا ہے لیکن اگر کوئی زبان ایسی ہو کہ ملہم کو خوب یا د ہو اور گویا اُس کی زبان کے حکم میں ہو تو بسا اوقات ملہم کو اس زبان میں الہام ہو جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے بعض الفاظ سے یہ سند ملتی ہے کیونکہ اول قرآن شریف قریش کی زبان میں ہی نازل ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اوّل مخاطب قریش ہی تھے مگر بعد اس کے قرآن شریف میں عرب کی اور اور زبانوں کے بھی الفاظ آگئے ہیں اور ہم لوگ جو قرآن شریف کے پیرو ہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خدا تعالی کی طرف سے قرآن شریف ہے اس لئے ہم خدا تعالیٰ سے اکثر عربی میں الہام پاتے ہیں تا وہ اس بات کا نشان ہو کہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ آنحضرت