چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 200

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۰ چشمه معرفت منظور نہیں ہے جیسا کہ ماں اپنے بچہ کو اس مکر سے دوا پلا دیتی ہے کہ وہ ایک شربت شیریں ہے اور میں نے بھی پیا ہے بڑا میٹھا ہے اور اس مکر سے بچہ کے دل میں ایک خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دوا کو پی لیتا ہے اور جیسا کہ پولس کے بعض لوگوں کو یہ خدمت سپرد ہے کہ وہ پولس کی وردی ۱۹۲) نہیں رکھتے اور عام لوگوں کی طرح سفید پوش رہتے ہیں اور پردہ میں بد معاشوں کو تاڑتے رہتے ہیں۔ پس یہ بھی ایک قسم کا مکر ہے مگر نیک مکر ۔ ایسا ہی طالب علم یا وکلا ء یا ڈاکٹروں کا امتحان لینے والے یا کسی اور صیغہ میں جو ممتحن ہوتے ہیں وہ بھی نیک نیتی سے سوال بنانے کے وقت ایک حد تک مکر کرتے ہیں۔ پس اسی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مکر جو خدا کی شان کے مناسب حال ہیں وہ اس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ نیکوں کو آزماتا ہے اور بدوں کو جو اپنی شرارت کے مکر نہیں چھوڑتے سزا دیتا ہے اور اُس کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مخفی رحمتیں یا مخفی غضب اس کے قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں ۔ بعض اوقات ایک مکار شریر آدمی جو اپنے بد مکروں سے باز نہیں آتا بعض اسباب کے پیدا ہونے سے خوش ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے جو میرے لئے میسر آگئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ پیس ڈالوں گا مگر انہیں اسباب سے خدا اسی کو ہلاک کر دیتا ہے اور یہ خدا کا مکر ہوتا ہے جو شر یہ آدمی کو ان کاموں کے بد نتیجے سے بے خبر رکھتا ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس مکر میں اُس کی کامیابی ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایسے کام خدا تعالی کے دنیا میں ہزار ہا پائے جاتے ہیں کہ وہ ایسے شریر آدمی کو جو بد مکروں سے بے گنا ہوں کوڈ کھ دیتا ہے اپنے نیک اور عدل کے مکر سے سزا دیتا ہے۔ اب ہم عام فائدہ کے لئے کتاب لسان العرب سے جو ایک پرانی اور معتبر کتاب لغت کی ہے مکر کے معنے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے المکر احتیال فى خفية۔ وان الكيد في الحروب حلال والمكر في كل حلال حرام قال الله تعالى وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا