چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 195

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۵ چشمه معرفت ہمیشہ آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے اور انہیں پر الہام نازل کرتا ہے دوسروں پر بے وجہ ناراض ہے گویا اُسی قوم سے اُس کا رشتہ اور قرابت ہے اور گویا دوسرے ملکوں کے لوگ اس کے بندے ہی نہیں یا اُن کے وجود سے ہی بے خبر ہے (۷) اُس نے نیوگ کے ناپاک طریق کے لئے تاکیدی حکم دے کر ہزاروں عورتوں کی عفت میں خلل ڈالا (۸) اُس نے تناسخ کا عقیدہ پیش کر کے آریوں کو کوئی ایسا قاعدہ نہ بتلایا جس سے سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً دوبارہ آنے والی کوئی لڑکی اسی شخص کی ماں یا دادی تو نہیں جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے (۹) اس نے یہ عقیدہ ظاہر کیا کہ گویا پر میشر کو ایک ایسا بد مکر کرنے کی عادت ہے جو مکتی دینے کے وقت پوشیدہ طور پر کتی یاب کے (۱۸۷) ذمہ ایک گناہر رکھ لیتا ہے اور پھر اُسی گناہ کا الزام دے کر مکتی خانہ سے اُس کو باہر نکالتا ہے (۱۰) اس نے اپنے پر میشر پر یہ نہایت قابل شرم دھبہ لگایا کہ وہ جاودانی مکتی دینے پر قادر نہیں ہے اور پھر جھوٹ یہ بولا کہ اعمال محدود ہیں اس لئے جزا بھی محدود ہی چاہیے حالانکہ یہ بیان خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ ہمو جب اصول آریوں کے پر میشر اس لئے مکتی خانہ سے ہر ایک روح کو باہر نہیں کرتا کہ اعمال محدود ہیں بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اُس کو یہ قدرت ہی نہیں ہے کہ کسی کو دائمی مکتی دے سکے وجہ یہ کہ اگر دائی مکمتی سب روحوں کو دیدے تو پھر آئندہ اپنا کام کیوں کر چلا دے اور پھر نئی پیدائش ظاہر کرنے کے لئے کہاں سے نئی روحیں لاوے؟ حالانکہ بموجب عقیدہ وید کے یہ ضروری امر ہے کہ ہمیشہ سلسلہ جونوں کا جاری رہے مگر جو لوگ ہمیشہ کے لئے آواگون سے نجات پاچکے وہ کیوں کر دوبارہ جونوں کے چکر میں آسکتے ہیں؟ پس پر میشر پر یہ مصیبت پڑی کہ ہمیشہ کی مکتی دینے سے اُس کا تمام کاروبار بند ہو جاتا ہے کیونکہ نئی روحوں کے پیدا کرنے پر تو وہ قادر ہی نہیں۔ اس صورت میں وہ کہاں سے نئی روحیں لاتا؟ نا چار میعادی مکتی قرار دی گئی تا کسی طرح اُس کے راج اور حکومت میں فرق نہ آوے۔ یہ ہے ہندوؤں کا پر میشر اور یہ ہیں وید کی کامل ہدایتیں جن کی بناء پر مضمون پڑھنے والے نے کہا کہ وید کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں ۔ پس درحقیقت