چشمہٴ معرفت — Page 194
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۴ چشمه معرفت کہ وید توحید اور معرفت الہی کا سخت مخالف اور دشمن ہے اور ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے پس جس کتاب نے ایسی گندی تعلیم پھیلائی ہے کہ نہ تو حید کو باقی چھوڑا اور نہ عمل صالح کی ترغیب دی اور نہ ایک ذرہ بھر اُس میں کوئی خوبی ہے اُس کی ایسی تعریف کرنا کہ گویا اس کے بعد کسی الہامی کتاب کی حاجت نہیں یہ سراسر بے حیائی ہے اور خواہ نخواہ خدا کی کتابوں پر بے جا حملہ ہے۔ ہم پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ چونکہ انسانی حالت ایک طور پر نہیں رہی اور نوع انسان پر بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں پس مصلحت اور حکمت الہی کا یہی تقاضا تھا کہ ہر ایک تغیر کے مناسب حال کتاب نازل ہوجیسا کہ بہت آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ ابتدائے زمانہ میں کسی کامل کتاب کی (۱۸۶) ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ابتدائے زمانہ میں نہ گناہوں کا زور ہوتا ہے۔ نہ بد عقیدگی کا طوفان بر پا ہوتا ہے اور لوگ سیدھے سادے ہوتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جسمانی طور پر بھی جہاں تندرست اور صحیح سالم لوگ موجود ہوں وہاں چنداں طبیب کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ جہاں بیمار ہیں طبیب بھی وہیں جاتا ہے پس عند العقل زمانہ تین قسم پر تقسیم ہوسکتا ہے۔ (۱) ایک صلاحیت کا زمانہ جو ابتدائی زمانہ تھا۔ (۲) دوسرا نیک و بد کی برابری کا زمانہ جس کو درمیانی زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ (۳) تیسرا معاصی اور مفاسد کا زمانہ جس کو ہندی میں کلجگ کہتے ہیں سو وہ زہریلا زمانہ طوفان معاصی کا اس لائق تھا کہ کامل کتاب اس میں بھیجی جاوے سو وہ قرآن شریف ہے۔ وید نے جو کچھ کمال ظاہر کیا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں (۱) اس نے اپنے پر میشر کو خالق ہونے سے جواب دے دیا (۲) اُس نے روحوں کو اُن کی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ خود بخود سمجھ لیا (۳) اُس نے تمام ذرات عالم کو مع اُن کے خواص اور طاقتوں کے پرمیشر کی طرح اپنے وجود کے آپ ہی خدا مان لیا (۴) اُس نے خدا کی صفت وحی اور الہام کو ہمیشہ کے لئے معطل قرار دیا (۵) اُس نے اُن تمام دلائل سے انکار کیا جن سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے (۶) اُس نے پر میشر کو ایک بخیل اور پکش پات اور طرفداری کرنے والا ٹھیرایا کہ جو