چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 191

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۱ چشمه معرفت بھول جاتے ہیں۔ کیا ایسا پر میشر کہ جو کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اور کسی کو محض جو داور سخا کے طور پر کچھ دے نہیں سکتا وہ دوسروں کو باوجود اپنے اس ذاتی نقص کے کب اعلیٰ اخلاق سکھلا سکتا ہے؟ جس حالت میں خود پر میشر میں صفت رحمت اور مغفرت کی موجود ہی نہیں ہے اور جود وسخا اُس کی عادت ہی نہیں ہے تو پھر وہ دوسروں کو یہ اخلاق فاضلہ کیسے سکھلائے گا۔ اب اگر آر یہ لوگ یہ جواب دیں کہ یہ صفات اعلیٰ اخلاق میں داخل نہیں ہیں اور یہ بُری صفات ہیں اچھی نہیں ہیں تو اس سے اُن کو ماننا پڑے گا کہ وہ خود ان اخلاق کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن کے پابند نہیں ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اُن کا کا نشنفس اس بات کو نا پسند کرتا ہے کہ اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہو جائے اور کوئی راہ مخلصی کی نہ ہو تو وہ معافی کے لئے اپنے تئیں گورنمنٹ کے حوالہ کریں یا گورنمنٹ خود ہی اُن کو معاف کر دے اور کیا وہ در حقیقت نہیں چاہتے کہ کوئی ثابت شدہ جرم ان کا گورنمنٹ بخش دے پس جب کہ اُن کی فطرت میں در حقیقت یہ تقاضا موجود ہے جس کو ایسے ﴿۱۸۳) وقتوں میں بے اختیار ظاہر کرتے ہیں کہ جب وہ گورنمنٹ کے کسی مواخذہ میں ہوتے ہیں پس اُن کو سوچنا چاہیے کہ یہ فطرتی تقاضا کس نے اُن کے اندر پیدا کیا ہے؟ اور اگر خدا تعالی کا ارادہ یہ نہ ہوتا کہ تو بہ کرنے والوں پر رحم کر کے اُن کو بخش دیا کرے تو انسانوں کی فطرت میں یہ تقاضا کیوں رکھتا؟ اور در حقیقت تمام اخلاق میں سے اعلیٰ خلق یہی ہے کہ انسان اپنے قصورواروں کے قصور معاف کرے اور اپنے گنہ کرنے والوں کے گناہ بخش دے۔ پس اگر پر میشر میں یہ خلق نہیں ہے تو اُس سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟ اور جس حالت میں انسان کے لئے یہ امر محال ہے کہ اُس کے تمام حقوق ادا کر کے اور تمام خطاؤں سے بچ کر بکلی نیک اور پاک ہونے کا دعوی کرے تو اس صورت میں یہ کہنا کہ نجات اسی امر پر موقوف ہے کہ انسان بکلی گناہوں سے بذریعہ سزا کے صاف ہو کر ایسے جنم میں وجود پذیر ہو کہ تمام عمر کوئی گناہ نہ کرے۔ یہ قول محض ایک ایسے پاگل اور دیوانہ کا قول ہو سکتا ہے کہ جو انسانی فطرت کی کمزوری سے بے خبر ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسانی