چشمہٴ معرفت — Page 189
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۸۹ چشمه معرفت بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتا تھا اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے اُن کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اُس کے زمانہ میں اُس کی کوئی نظیر نہ ہو اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں ۔ کیونکہ نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں (۱۸۱) نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی والہام ہو۔ اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہو گئی ہے صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں۔ اور پھر خدا تعالی کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تقدس بھی ہے یعنی یہ کہ وہ ہر ایک عیب اور نقصان سے پاک ہے لیکن ظاہر ہے کہ گونگا ہونا ایک عیب ہے۔ ایسا ہی باوجود دعوئی قدرت کے ایک روح کو بھی پیدا نہ کر سکنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے کوئی پختہ اور محکم دلائل پیش نہ کرنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اُس کے مقابل پر از لی اور ابدی طور پر کوئی اور وجود بھی ہونا یہ بھی اس کے لئے عیب ہے۔ پس با وجود اس قدر عیبوں کے تقدس کہاں رہا سکتا ہے۔ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُوْنَ۔ ایک اور ضروری صفت خدا تعالیٰ کی ہے جس کو دید اندر ہی اندر ہضم کر گیا ہے اور وہ اُس کا تو اب اور غفور ہونا ہے اور تو اب اور غفور کے یہ معنی ہیں کہ وہ تو بہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے پس اُس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور کبھی نفس امارہ کی بعض خواہشیں اُس پر غالب آجاتی ہیں پس وہ اپنی کمز ور فطرت کی رو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر الانعام: ١٠١