چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 188

۱۸۸ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ کی صفت خالقیت سے انکار کیا اور بعد اس کے خدا تعالیٰ کی صفت رازقیت اور رحمانیت سے (۱۸۰) وید منکر ہو بیٹھا ۔ اس طرح پر وید نے خدا تعالی کی تمام صفات کی صفائی کر دی اور اعلیٰ صفات کا تو ذکر کیا کل تمام صفات سے ہی جواب دیا۔ اس لئے ہم بزور کہتے ہیں کہ وید کے رو سے ہندوؤں کا پر میشر ہر ایک صفت سے معطل ہے نہ قادر ہے نہ خالق ہے نہ واحد لاشریک ہے نہ رازق ہے نہ رحمن ہے نہ منعم ہے بلکہ تمام مدارا اپنے اپنے اعمال پر ہے پر میشر میں کوئی صفت نہیں۔ پس خیال کرنا چاہئے کہ کہاں تو یہ دعوی کہ الہامی کتاب کی یہ نشانی ہے کہ جس میں اعلیٰ درجہ کے صفات پر میشر کے درج ہوں اور کہاں یہ حالت کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی ایک صفت بھی ثابت نہیں ہوتی ۔ اور خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تکلم بھی ہے کیونکہ وہی ذریعہ فیضان اور ہدایتوں کا ہے لیکن بموجب عقیدہ آریوں کے کروڑ ہا برس کی مدت گذر گئی کہ وہ صفت بھی پر میشر میں سے مفقود ہوگئی ہے اور اب نعوذ باللہ پر میشر ہمیشہ کے لئے گنگے کے طور پر ہے اور کلام کرنے پر قادر ہی نہیں اور اس صفت کے مسلوب ہونے سے دو نقصان ہوئے ہیں (۱) ایک یہ کہ پر میشر ہمیشہ کے لئے ناقص ٹھیر گیا گویا اُس کی صفات کے اعضا میں سے ایک عضو کٹ گیا (۲) دوسرے یہ کہ اُس کے فیضان الہامی سے ہمیشہ کے لئے آریہ ورت کے لوگ محروم رہ گئے اور اُن کے مذہب کا تمام مدار صرف قصوں کہانیوں پر رہا مگر اسلام کلام الہی کی صفت کو کبھی معطل نہیں کرتا اور اسلام کی رو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص ہید اگر بعض جاہل اور نادان جو نام کے مسلمان ہیں یہ عقیدہ رکھیں کہ اسلام میں بھی مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا سلسلہ بند ہے تو یہ ان کی اپنی جہالت ہے کیونکہ قرآن شریف مکالمہ مخاطبہ الہیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِم لے یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا یعنی مومنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گوشریعت ختم ہو گئی ہے کیونکہ عمر د نیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے۔ منہ المؤمن: ١٦ یونس : ۶۵