چشمہٴ معرفت — Page 187
روحانی خزائن جلد ۲۳۔ IAZ چشمه معرفت جاتا ہے اور کوئی دلیل اُس کے وجود پر قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر پر میشر در حقیقت صفت خالقیت سے معطل ہے اور کوئی چیز بجز جوڑنے اور پیوند دینے کے اُس نے پیدا ہی نہیں کی اور تمام چیزیں یعنی تمام روحیں اور تمام ذرات اجسام جن کو پر مانو یا پر کرتی کہتے ہیں خود بخود ہیں اور اپنی ذات سے بغیر پیدا ہونے کے ازلی ابدی ہیں تو پھر پر میشر کے وجود پر کون سی دلیل قائم ہو سکتی ہے اور کیا (۱۷۹) صرف جوڑ نا اور باہم پیوند دینا اس کے وجود پر ایک ایسی دلیل ہے جس پر دل مطمئن ہو سکے ؟ اور اگر رُوحیں اور ذرات عالم پر میشر کی طرح قدیم اور انادی اور غیر مخلوق ہیں تو کیوں نہ کہا جائے کہ ایسا ہی اُن کا اتصال اور انفصال بھی طبعی طور پر اُن کی قدیمی صفت ہے جس میں پر میشر کے وجود کی اسی طرح ضرورت نہیں جیسا کہ اُن کے پیدا ہونے میں پر میشر کے وجود کی ضرورت نہیں پس اس کتاب سے زیادہ گمراہ کرنے والی کون سی کتاب ہے؟ کہ جو ایسی تعلیم دے جو خدا سے منکر بنانے کے لئے مدد دیتی ہے بلکہ منکر بنانے کے لئے خود اغوا کرتی ہے۔ اور پھر دوسری طرف جیسا کہ وید خدا تعالیٰ کی صفت ذاتی سے برگشتہ اور منکر ہے یعنی وہ اعلیٰ صفت خدا تعالی کی جو وحدت فی الازل والا بد کی خصوصیت ہے اس سے انکاری ہے ایسا ہی وید خدا تعالی کی خالقیت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ ابھی ذکر ہو چکا ہے۔ اسی طرح وید خدا تعالیٰ کے رازق اور منعم اور رحمن ہونے سے بھی انکاری ہے کیونکہ ہر ایک نعمت جو انسان کو ملتی ہے اُن سب نعمتوں کو دید انسانوں کے لئے انہیں کے اعمال کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور خدا کے فضل اور انعام اور رحمت کا کچھ ذکر نہیں کرتا ۔ پس جبکہ ہر ایک نعمت انسانوں کی دید کے رو سے صرف اُن کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ ہندوؤں کا پر میشر رازق اور منعم اور رحمن نہیں ہے بلکہ رازق اور منعم اور رحمن اُن کے اعمال ہیں اور پر میشر کچھ بھی نہیں اس صورت میں ظاہر ہے کہ بموجب تعلیم وید کے صفت رازق اور منعم اور رحمن ہونے کی بھی پر میشر میں نہیں ہے پس یہ عجیب بات ہے کہ پہلے تو وید نے خدا تعالیٰ کی اس صفت سے جو وحدت فی الازل والا بد ہے انکار کیا اور پھر اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ