چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 567

چشمہٴ معرفت — Page xx

مسلمان ہونے کے ثبوت میں سکھوں کی مستند کتب سے باوا نانکؒ کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات بھی پیش فرمائی ہیں۔جہاں یہ کتاب وید اور آریہ دھرم کے ردّ میں ایک بلند پایہ علمی تصنیف ہے وہاں اس کے مطالعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اسلام کے لئے غیرت اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے حقیقی عِشق کا اظہار ہوتا ہے۔پیغام صلح حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اس مضمون میں بّرعظِیم کی دو بڑی قوموں ہندوؤں اور مسلمانوں میں صُلح اور روا داری پیدا کرنے کی ایک دردمندانہ اپیل فرمائی ہے۔حضور نے دونوں قوموں کی باہمی نفرت اور معاشرتی بُعد کی اصل وجہ مذہبی اختلاف کو قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ تمام مذاہب کے مسلّمہ بزرگوں اور صلحاء کا احترام کیا جائے اور ان کے مذہبی شعار کی حرمت کو قائم رکھا جائے اور ہم رامچندر اور کرشن کو خدا کے برگزیدہ مانتے ہیں اور وید کو بنیادی طور پر من جانب اﷲ مانتے ہیں لیکن رائج الوقت ہندو مذہب دوسرے مذاہب کا احترام کرنے اور غیر ہندوؤں سے رواداری برتنے میں انتہائی تنگ نظر ہے اور یہی باعث ہے کہ باوجود ایک طویل عرصہ کی ہمسائیگی کے ہندوؤں میں مسلمانوں کے لئے رواداری نہیں۔حضور نے اپنے اِس مضمون میں انتہائی درد کے ساتھ اور خالصتاً ہمدردی کے طور پر ہندوؤں کو مسلمانوں سے محبت اور آشتی سے رہنے کی تلقین فرمائی ہے اور اہلِ اسلام کی طرف سے صلح کا ہاتھ بڑھایا ہے۔اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر حضوربرصغیر کی دونوں قوموں کے معززین کے سامنے اسے خود پڑھنا چاہتے تھے۔لیکن مضمون کی تکمیل کے صرف دو دن بعد آپ کی وفات ہو گئی۔انّا للّٰہ و انّا الیہ راجعون اور پھر یہ مضمون مورخہ ۲۱؍جون ۱۹۰۷ء کو پنجاب یونیورسٹی کے ہال میں پڑھا گیا۔نوٹ :۔پیغام صلح کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک سے جو یادداشتیں شامل کی گئی ہیں یہ اس سے پہلے براہین احمدیہ حصہ پنجم (روحانی خزائن جلد۲۱) میں بھی درج ہو چکی ہیں۔ان یادداشتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ضمیمہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو خاتمہ چار فصلوں میں تحریر فرمانا چاہتے تھے یہ یادداشتیں اس کے متعلق ہیں نہ کہ پیغام صلح کے متعلق۔خاکسار سیدعبدالحی