چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xix of 567

چشمہٴ معرفت — Page xix

نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم تعارف (از سید عبدالحي صاحب فاضل ایم اے) روحانی خزائن کی یہ جلد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی د۲و معرکۃ الآراء کتب ’’چشمہ معرفت‘‘ اور ’’پیغام صلح‘‘ پر مشتمل ہے۔چشمہ معرفت یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات سے گیارہ روز قبل ۱۵ ؍ مئی ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی تھی۔اِس کتاب کی تالیف کا باعث یہ واقعہ ہوا کہ ہندوستان کی اسلام دشمن تحریک آریہ سماج نے دسمبر ۱۹۰۷ء میں لاہور میں ایک مذہبی جلسہ کیا۔اِس جلسہ کے منتظمین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے متبعین کو خاص طور پر دعوت دی کہ وہ اس جلسہ میں شریک ہوں اور اسلام کی برتری اور صداقت پر مشتمل مضمون حاضرین کو سنائیں۔آریوں نے یہ وعدہ کیا کہ اس اجتماع میں کسی مذہب کے خلاف دلآزار رویّہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔متانت اور تہذیب سے صرف اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان ہو ں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موقع کے لئے ایک مضمون تحریر فرمایا جو اِس جلد کے صفحہ ۳۷۳ سے ۴۳۶ پر موجود ہے۔حضور نے اپنے متبعین کو آریوں کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے جلسہ میں شرکت کی تلقین فرمائی لیکن آریوں نے حسب عادت اپنی تقریروں میں اسلام پر انتہائی ناروا حملے کئے۔قرآن کریم کو نشانۂ تضحیک بنایا اور سیّد المعصومین حضرت خاتم النبیین محمد مُصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر بے بنیاد اور ناپاک الزامات لگائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’چشمہ معرفت‘‘میں آریوں کے انہی اعتراضات کا جواب اور بہتانات کا ردّ فرمایا ہے اور آریوں کو سمجھانے کے لئے قرآن کریم اور وید کی تعلیمات کا موازنہ، الٰہی کتاب کی صفات اور زندہ مذہب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اسلام کی برتری ثابت فرمائی ہے اور حضرت خاتم النبیّین صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیضان اور اسلام کی زندگی کے ثبوت میں علاوہ عقلی و نقلی دلائل کے اپنے وجود کو پیش فرمایا ہے۔پہلے حصّے میں اعتراضات کا جواب ہے اور دوسرا حصّہ حضور کے اس مضمون پر مشتمل ہے جو اس جلسہ میں پڑھ کر سُنایا گیا۔حضور نے اس کتاب میں باوا نانک رحمۃ اﷲ علیہ کے