چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 174

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۴ چشمه معرفت (۱۲) یعنی پاک ہو۔ اس سے اس کا یہ مطلب تھا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتر نہیں تھی جیسا کہ آگے چل کر اُس نے اپنے اس دلی گند کو کھلے کھلے طور پر ظاہر کر دیا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کسی کی پاک اور پوتر زندگی کو کوئی نہیں جانتا مگر خدا جو عالم الغیب ہے جن لوگوں نے خدا کے پاک نبیوں کو مفتری اور شریر قرار دیا اور طرح طرح کے گناہوں سے اُن کو آلودہ سمجھا وہ اُس دن تک اپنی غلطیوں کو سچ سمجھتے رہے جب تک کہ خدا کے ہاتھ نے اُن کو ہلاک نہ کیا۔ موسیٰ نبی کے زمانہ میں فرعون کے دل میں یہی خیال سا گیا تھا کہ موسیٰ جھوٹا اور مفتری ہے آخر خدا نے اس کو مع اس کی فوج کے دریائے نیل میں غرق کر کے یہ ثابت کر دیا کہ فرعون جھوٹا اور موسیٰ سچا ہے پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں نے حضرت عیسی کو جھوٹا قرار دیا اور نا پاک تہمتیں اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائیں آخر خدا نے اُن کے منصوبوں سے حضرت عیسی کو بچا لیا اور اُن کو انواع و اقسام کے عذاب سے ہلاک کیا اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور اس زمانہ کے شریر اور حرام کارلوگ آنجناب کے دشمن ہو گئے اور مفتری اور کذاب سمجھنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں ایک شخص مسمی عمرو بن ہشام نے جس کا نام پیچھے سے ابو جہل مشہور ہوا جو کفار قریش کا سردار اور سرغنہ تھا ان الفاظ سے دعا کی کہ اللهُم مَن كان منا افسد في القوم واقطع للرحم فاحنه اليوم يعنی اے خدا جو شخص ہم دونوں میں سے (اس) لفظ سے مراد اپنے نفس اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا ) تیری نگہ میں ایک مفسد آدمی ہے اور قوم میں پھوٹ ڈال رہا ہے اور باہمی تعلقات اور حقوق قومی کو کاٹ کر قطع رحم کا موجب ہو رہا ہے آج اُس کو تو ہلاک کر دے اور ان کلمات سے ابو جہل کا یہ منشاء تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مفسد آدمی ہیں اور قوم میں پھوٹ ڈال کر نا حق قریش کے مذہب میں ایک تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور نیز انہوں نے تمام حقوق قومی تلف کر دیئے ہیں اور قطع رحم کا موجب ہو گئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ابو جہل کو یہی یقین تھا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی