چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 173

۱۷۳ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ ہے اور صفات اضافیہ یہ کہ اُس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے تا اپنی خالقیت ثابت کرے اور اس نے بغیر کسی کے عمل کے زمین و آسمان کی ہزاروں نعمتیں انسانوں کے لئے مہیا کی ہیں تا 110 کے اپنی رازقیت ثابت کرے اور وہ اسی دنیا میں عبادت اور مجاہدہ کرنے والوں کو ایک خاص عزت بخشا اور خاص تائید کے ساتھ اُن میں اور اُن کے غیروں میں فرق کر کے دکھلا دیتا ہے اور اپنے قرب اور مکالمہ مخاطبہ کا شرف اُن کو بخشتا ہے تا اپنی رحیمیت ثابت کرے اور قیامت کو ہر ایک فرمانبردار اور نافرمان کو اپنی مرضی کے موافق جزا وسزا دے گا تا اپنا مالک جزا و سزا ہونا ثابت کرے۔ یہ ہیں دونوں قسم عبادت کے جو اصل حقیقت پرستش ہے اور ظاہر ہے کہ دید دونوں قسموں کا مخالف اور منکر ہے چنانچہ اس کے نزدیک تو بہ کرنا محض فضول اور بے فائدہ ہے اور استغفار سراسر بے سُود اور بیکار ہے ایسا ہی دوسری قسم کی عبادت کا حال ہے کیونکہ بموجب آریہ سماج کے اصول کے اُن کا پر میشر اپنی ازلیت ابدیت میں واحد لا شریک نہیں اور اس صفت میں تمام روحیں اُس کی شریک ہیں اور نیز وہ پیدا کرنے والا ارواح وذرات عالم کا نہیں اور اس میں نہ رحمانیت کی صفت ہے اور نہ رحیمیت کی صفت ۔ اور نہ وہ مالکوں کی طرح جزا سزا دینے پر قادر ہے لہذا وہ کسی قسم کی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور نہ کوئی اس میں خوبی ہے ایسا ہی وید نے خدا کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں بتلایا اور وید کی رو سے ثابت نہیں ہوتا کہ پر میشر موجود بھی ہے کیونکہ جب کہ وہ پیدا کرنے والا ہی نہیں تو کس دلیل سے اُس کا موجود ہونا شناخت کیا جاوے غرض دید کے ذریعہ سے نہ خدا تعالیٰ کی شناخت ممکن ہے اور نہ اس کی عبادت ہو سکتی ہے پھر نہ معلوم کہ وید کو سر چشمہ علوم کن معنوں سے کہتے ہیں اور اس کی تعلیم کو عالمگیر کیوں کہا جاتا ہے شاید ان معنوں سے کہتے ہوں کہ چونکہ وید آگ اور پانی اور چاند اور سورج اور دوسرے عناصر کی پرستش کی تعلیم دیتا ہے اور یہ چیزیں ہر ایک حصہ ملک میں بکثرت پائی جاتی ہیں اور عالمگیر ہیں اس لئے ماننا پڑا کہ وید کی تعلیم عالمگیر ہے ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ شرط بھی پیش کی کہ ملہمین کی زندگی پوتر ہو