چشمہٴ معرفت — Page 172
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۲ چشمه معرفت جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مر جاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوں میں چھٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہو جاتے ہیں (۱۲۴) ان اسرار کو بجز خدا تعالیٰ کے کون سمجھ سکتا ہے؟ ایسا ہی بعض نباتی اور معدنی چیزیں علیحدہ علیحدہ ہونے کی حالت میں تو ایک خاصیت نہیں رکھتیں مگر ترکیب کے بعد ان میں ایک نئی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً شورہ اور گندھک اور کوئلہ ایک خاص ترکیب سے بارود بن جاتا ہے اور اگر چاہیں که صرف شورہ یا صرف گندھک یا صرف کوئلہ سے بارود بنایا جائے تو یہ غیر ممکن ہوتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترکیب سے ایک نئی چیز پیدا ہو سکتی ہے اور شاید اسی بنا پر کیمیا کے طالب سونا اور چاندی بنانے کے سودا میں لگے رہتے ہیں مگر کوئی کیمیا ایسی نہیں جیسا کہ خدا کی محبت اور خدا کی طرف ایسا جھکنا جیسا کہ شیر خوار بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ تمام دنیا پر نظر ڈال کر ہر ایک طرف سے گواہی ملتی ہے کہ نیست سے ہست ہوتا ہے پس اسی طرح خدا مرد اور عورت کے نطفہ سے روح کو پیدا کر دیتا ہے سچا فلسفہ یہی ہے اور سچا علم یہی ہے جس پر ہزار ہا تجارب گواہی دے رہے ہیں ۔ پس وید جو اس کے مخالف تعلیم دیتا ہے اس بات سے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ سر چشمہ علوم ہرگز نہیں ہے بلکہ گمراہیوں اور غلطیوں کا سرچشمہ ہے ۔ عجیب بات ہے کہ وید نے ہر ایک پہلو سے راہ راست کو چھوڑ دیا ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ خدائے عزوجل کی عبادت دو قسم کی ہے۔ (۱) ایک تو بہ واستغفار یعنی اس کے آستانہ پر جھک کر اپنے گناہوں کا اقرار کرنا اور نہایت تذلل اور انکسار اور فنا کی حالت بنا کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنا اور طہارت و تقویٰ کے حصول کے لئے اس کی مدد کی درخواست کرنا اور سچے دل سے اس کی جناب میں عہد کرنا کہ پھر ایسا گناہ نہ کریں گے (۲) دوسری قسم کی عبادت یہ ہے کہ اُس کی تمام خوبیوں اور کمالات کا ذکر کر کے اس کو یاد کرنا اور اس کی صفات ذاتیہ اور اضافیہ کا اقرار کر کے اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا۔ صفات ذاتیہ یہ کہ وہ اپنے کمال ذات اور ابدیت اور ازلیت اور تمام قدرتوں اور طاقتوں اور علم میں واحد لاشریک