چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 171

روحانی خزائن جلد ۲۳ 121 چشمه معرفت پر باقی نہ رہتا۔ پس خدا کی اسی قدرت نے جو نیست سے ہست کرنا ہے تمام دنیا کو بچا رکھا ہے انسان کی سخت بدذاتی ہے جو اس کو اپنی قدرت نمائی میں عاجز سمجھے اور اس کو نیست سے ہست کرنے پر قادر خیال نہ کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ایجاد میں بھی بعض ایسے کام دکھاتی ہیں کہ گویا نیست سے ہست کرتی ہیں مثلاً فونوگراف میں جو آواز بند کی جاتی ہے اور وہ اُس انسان کے ٹھیک ٹھیک لہجہ پر جس کی آواز بند کی گئی ہے نکلتی ہے کیا اس ایجاد سے پہلے کسی کو سمجھ آ سکتا تھا کہ (۱۲۳) آواز میں یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ خاص قسم کے ظروف میں بند ہو سکتی ہے اور پھر اصل آواز کی طرح پیدا ہو کر سنائی دیتی ہے اور سالہا سال اور مدتہائے دراز تک بند رہ سکتی ہے اور پھر جب اُس آواز کا سنانا منظور ہو تو ایسے طور سے نکلتی ہے کہ گویا وہ انسان جس کی آواز بند کی گئی ہے بول رہا ہے کیا یہ نیست سے ہست نہیں اگر اس طبعی راز کا کسی کو علم نہ ہو تو وہ ایسی آواز سے ڈرے گا اور خیال کرے گا کہ شاید اس میں کوئی جن بول رہا ہے۔ اسی طرح اس زمانہ میں ہزار ہا سائنس کے اسرار کا پر وہ کھلتا جاتا ہے جو کسی زمانہ میں نیست کے طور پر سمجھے جاتے تھے اور وہ عمیق در عمیق علم طبعی کے خواص نئی ایجادوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے جاتے ہیں کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پھر تعجب آتا ہے کہ ایسے زمانہ میں وہ نادان بھی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے اسرار قدرت پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح نیست سے کیونکر ہست ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہو جاتی ہے اور مرجاتی ہے وہ شہد اور سہا گہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہر سہا گہ گھی ۔ موئی دھات دا ایہو جی یعنی شہر سہا گہ اور گھی جو ہے مری ہوئی دھات کی یہی جان ہے۔ اور اسرار قدرت الہی میں سے ایک یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مر جائے مگر ابھی تازہ ہو تو اگر اس کے سر کو گو بر میں دبایا جائے تو چند منٹ میں وہ زندہ ہو کر بھاگ جاتی ہے لکھی بھی اگر پانی میں مرجائے تو وہ بھی زندہ ہوکر پرواز کر جاتی ہے اور بعض جانور