چشمہٴ معرفت — Page 167
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۷ چشمه معرفت اپنے نفس کو شناخت کر لیا اُس نے اپنے رب کو شناخت کرلیا۔ پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالی فرماتا ہے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی کے یعنی میں نے روحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑکر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہو کر کوئی دہریہ بن جاتا ہے اور کوئی آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے باپ اور ماں کی محبت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض بچے ماں کے مرنے کے بعد مرجاتے ہیں پھر اگر انسانی (۱۵۹) روحیں خدا کے ہاتھ سے نہیں نکلیں اور اس کی پیدا کردہ نہیں تو خدا کی محبت کا نمک کس نے اُن کی فطرت پر چھڑک دیا ہے اور کیوں انسان جب اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور پردہ غفلت دور ہوتا ہے تو دل اُس کا خدا کی طرف کھینچا جاتا ہے اور محبت الہی کا دریا اس کے صحن سینہ میں بہنے لگتا ہے آخران روحوں کا خدا سے کوئی رشتہ تو ہوتا ہے جو ان کو محبت الہی میں دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے وہ خدا کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ تمام چیزیں اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں بیچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب تعلق ہے ایسا تعلق نہ ماں کا ہوتا ہے نہ باپ کا ۔ پس اگر بقول آریوں کے روحیں خود بخود ہیں تو یہ تعلق کیوں پیدا ہو گیا اور کس نے یہ محبت اور عشق کی قوتیں خدا تعالیٰ کے ساتھ روحوں میں رکھ دیں یہ مقام سوچنے کا مقام ہے اور یہی مقام ایک بچی معرفت کی کنجی ہے۔ یہ بھی طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ تین سال تک انسان کا پہلا جسم تحلیل پا جاتا ہے اور اس کے قائم مقام دوسرا جسم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ یقینی امر ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی بیماری کی وجہ سے نہایت درجہ لاغر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مشت استخوان رہ جاتا ہے تو صحت یابی کے بعد آہستہ آہستہ پھر وہ ویسا ہی جسم تیار ہو جاتا ہے۔ سواسی طرح ہمیشہ پہلے اجزاء جسم کے تحلیل پاتے جاتے ہیں اور دوسرے اجزاء ان کی جگہ لیتے ہیں ۔ پس جسم پر گویا ہر آن ایک موت ہے اور الاعراف :۱۷۳