چشمہٴ معرفت — Page 162
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۲ چشمه معرفت کرو گے اور جس طور سے عالم خواب میں روح پر ایک موت وارد ہوتی ہے اور اپنے علوم اور صفات سے وہ الگ ہو جاتی ہے اس طور پر نظر مد بر ڈالو گے تو تمہیں یقین ہو جائے گا کہ موت کا معاملہ خواب کے معاملہ سے ملتا جلتا ہے پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ روح مفارقت بدن کے بعد اُسی حالت پر قائم رہتی ہے جو حالت دنیا میں وہ رکھتی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسی ہی موت اس پر وارد ہو جاتی ہے جیسا کہ خواب کی حالت میں وارد ہوئی تھی بلکہ وہ حالت اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک صفت اس کی نیستی کی چکی کے اندر پیسی جاتی ہے اور وہی روح کی موت ہوتی ہے اور پھر جو لوگ زندہ ہونے کے کام کرتے تھے وہی زندہ کئے جاتے ہیں کسی روح کی مجال نہیں کہ آپ زندہ رہ سکے ۔ کیا تم اختیار رکھتے ہو کہ نیند کی حالت میں تم اپنے ان صفات اور حالات اور علوم کو اپنے قبضہ میں رکھ سکو جو بیداری میں تم کو حاصل ہیں ؟ نہیں بلکہ آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی روح کی حالت بدل جاتی ہے اور ایک ایسی نیستی اُس پر وارد ہوتی ہے کہ تمام کا رخانہ اُس کی ہستی کا اُلٹ پلٹ ہو جاتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ رُوح کی موت کے بارے میں قرآن شریف میں فرماتا ہے اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ الجز و نمبر ۲۴ سورة الزمر (ترجمہ) خدا جانوں کو جب اُن کی موت کا وقت آتا ہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے یعنی وہ جانیں بے خود ہو کر الہی تصرف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آجاتی ہیں اور زندگی کی خود اختیاری اور خود شناسی اُن سے جاتی رہتی ہے اور موت ان پر وارد ہو جاتی ہے یعنی بکلی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی روح جو دراصل مرتی نہیں مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے وہ روح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت میں بھی روح خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں آجاتی ہے اور الزمر :٤٣ ۵۱۵۴