چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 150

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۰ چشمه معرفت یہ جاندار کروڑہا درجہ انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں پس جو کچھ ہماری نظر کے سامنے فعل الہی موجود ہے وہ صاف بتلا رہا ہے کہ خدا کا قانون قدرت یہی ہے اور اس کے جواب میں یہ کہنا کہ جو جاندار گوشت خوار ہیں وہ کسی پہلی جون میں بہت برے آدمی تھے پر میشر نے بطور سزا کے اُن کو گوشت خوار بنایا اس جواب سے ہر ایک عقلمند تعجب کرے گا کہ یہ کیسی سزا ہے کہ سزا کے طور پر ایک عمدہ اور مقوی غذا ان کو دے دی۔ ماسوا اس کے ایک ثابت شدہ امر کے مقابل پر صرف اپنا ایک خیال پیش کرنا جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں یہ کس قسم کی منطق ہے ظاہر ہے کہ یہ تو کھلے کھلے طور پر ثابت شدہ امر ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکثر مخلوق دنیا میں گوشت خوار ہی ہے اور یہ صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ مخلوق کے لئے خدا نے یہی پسند کیا ہے اور جو بعض پرند اور چرند گوشت نہیں کھاتے۔ وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ شکار کرنے سے عاجز ہیں ورنہ وہ سب کچھ کھا سکتے ہیں اور جب یہ بات ثابت ہو چکی تو مانا پڑا کہ مخلوق کے لئے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ گوشت کھایا کریں اور بہت سے اسباب صحت گوشت کھانے پر ہی موقوف رکھے گئے ہیں اسی لئے ہند کی طبابت میں بھی بعض امراض کے علاجوں میں گوشت کا ذکر ہے۔اب اس کے مقابل پر یہ و ہم پیش کرنا کہ گوشت خوار جاندار صرف سزا کے طور پر گوشت خوار بنائے گئے ہیں یہ صرف ایک دعوی ہے جس کا کچھ ثبوت نہیں ایسا ہی یہ لوگ ہر ایک جگہ دلیل کی جگہ دعوی ہی پیش کر دیتے ہیں نہ معلوم کہ ایسی باتوں سے یہ لوگ عوام کو دھو کہ دینا چاہتے ہیں یا اب تک یہ لوگ دعوئی اور دلیل میں فرق نہیں کر سکتے ۔ راجہ رام چندر اور کرشن سب گوشت کھاتے تھے اگر وہ گوشت کھانا خلاف قانونِ قدرت سمجھتے تو ایسا کیوں کرتے ؟ پھر جیسا کہ ہم بار بارلکھ چکے ہیں وید کا یہ دعویٰ کہ تمام روحیں قدیم اور ا نا دی ہیں اور ۱۴۳ وہی بار بار شبنم کی طرح زمین پر بذریعہ غذا انسانوں کے پیٹ میں جاتیں اور بچہ بنتی ہیں یہ بھی