چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 149

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۹ چشمه معرفت اس کا نام وشوا متر رکھا گیا۔ پس ایسا وید جو پر میشر کو کو سیکا رشی کا پوتر قرار دیتا ہے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی باتیں قانون قدرت کے مطابق ہیں؟ اور اگر اسی طرح پر میشر کی یہ عادت ہے کہ وہ اولا د دینے کے لئے خود ہی عورتوں کے رحم میں داخل ہو جایا کرتا ہے تو پھر ایسی صورت میں نیوگ کی پلید رسم کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو بہت سہل طریق ہے کہ جس آریہ کے گھر میں اولاد نہ ہو خود پر میشر ہی اس کی بیوی کے رحم میں داخل ہو جائے۔ اس طرح پر اُس نا پاک رسم کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جو نیوگ کے نام سے مشہور ہے۔ ہم تو حیران ہیں کہ جس وید میں ایسے قصے ہیں اس کی نسبت کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ قانون قدرت کے موافق ہے ایسا ہی وید کی یہ تعلیم قانون قدرت کے مخالف ہے کہ گوشت کھانا سخت ممنوع اور پرمیشر کے منشاء کے برخلاف ہے کیونکہ اگر دنیا کے ہر ایک جاندار پر وسیع نظر ڈالی جاوے تو معلوم ہوگا کہ زمین کی سطح پر اور دریاؤں میں جو جاندار پائے جاتے ہیں اکثر گوشت خوار ہی ہیں۔ اور گوشت خواروں کی نسبت وہ جانور جو صرف نباتی چیزیں کھاتے ہیں نہایت ہی قلیل ہیں گویا کچھ بھی نہیں پہلے ہم اگر انسانوں پر ہی نظر ڈالیں تو ثابت ہوگا کہ یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے کل انسان بحجر قلیل مقدار اُن ہندوؤں کے جو گوشت نہیں کھاتے سب گوشت خوار ہیں گویا تمام دنیا کی فطرت کا تقاضا گوشت خواری ہے اور جو تھوڑ اسا گر وہ ہندوؤں کا گوشت نہیں کھاتا ان میں سے قوت شجاعت اور غیرت بالکل مفقود ہے اسی وجہ ۔ جہ سے نیوگ جیسی نا پاک رسم کو انہوں نے قبول کر لیا اور وہ اس لائق بھی نہیں ہوتے کہ جنگی فوجوں میں داخل ہوں کیونکہ سخت بزدل ہوتے ہیں۔ اور جب ہم دوسرے جانداروں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی بجز چند بزدل قسم جانوروں کے جیسے بکری اور گائے باقی سب گوشت خور ہی ثابت ہوتے ہیں اور بحری جانور تو گل گوشت خوار ہیں اور چھوٹے چھوٹے دریاؤں کا تو ذکر کیا ہے۔ بحرمحیط یعنی سمندر (۱۳۲) جس نے زمین کا ایک بڑا حصہ روکا ہوا ہے وہ بھی گوشت خوار جانوروں سے بھرا ہوا ہے اور