چشمہٴ معرفت — Page 147
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۷ چشمه معرفت ارادہ کیا تب ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول بھیجا اور یہ قومی وحدت اقوامی وحدت سے ۱۳۹ مقدم تھی اور حکمت ربانی اس امر کی مقتضی تھی کہ اول ہر ایک ملک میں قومی وحدت قائم کرے اور جب قومی وحدت کا دور ختم ہو چکا تب اقوامی وحدت کا زمانہ شروع ہو گیا اور وہی زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا تھا۔ اور یاد رہے کہ کسی رسول اور کتاب کی اسی قدر عظمت سمجھی جاتی ہے جس قدر اُن کو اصلاح کا کام پیش آتا ہے اور جس قدر اس اصلاح کے وقت مشکلات کا سامنا پڑتا ہے سو یہ بات ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح کامل مکمل نہیں ہو سکتی کیونکہ ابتدائے زمانہ میں اِن مشکلات کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا جو بعد میں پیدا ہوئیں ایسا ہی قومی وحدت کے زمانہ میں اس وقت کے نبیوں اور رسولوں کو وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آسکتی تھیں جو اقوامی وحدت کے زمانہ میں اس نبی کو پیش آئیں جس کو یہ حکم ہوا کہ جو تمام قوموں کو ایک وحدت پر قائم کرو۔ خلاصہ کلام یہ کہ دنیا پر تین انقلاب آئے ہیں اور ہر ایک انقلاب ایک خاص طور کی ہدایت کو چاہتا تھا چنانچہ ابتدائے آفرینش کا زمانہ ایک ایسا سادہ زمانہ تھا کہ اُس میں اِن معاصی اور گناہوں اور بد عقائد کی تفصیل کی ضرورت نہ تھی جو بعد میں پیدا ہوئی چونکہ اس زمانہ میں کامل طور پر نوع انسان میں بدی اور بد عقیدگی نہیں پھیلی تھی اس لئے اس وقت کسی کامل کتاب کی ضرورت نہ تھی لہذا جس کتاب کو ہم تسلیم کریں کہ وہ ابتدائے آفرینش کی کتاب ہے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ناقص کتاب ہے۔ یہ بات ہر ایک عقل سلیم قبول کرلے گی کہ کمال اصلاح کی نوبت کمال فساد کے بعد آتی ہے ۔ طبیب کا یہ کام نہیں کہ وہ چنگے بھلے لوگوں کو وہ دوائیں دے جو عین بیماری کے غلبہ کے وقت دینی چاہیں ۔ اسی لئے قرآن شریف نے پہلے یہ بیان کر دیا کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی تمام دنیا میں فساد پھیل گیا اور ہر ایک قسم کے گناہ اور معاصی کا طوفان برپا ہو گیا اور پھر ہر ایک (۱۴۰) الروم :٤٢