چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 146

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۶ چشمه معرف ۱۳۸ جمع کر دیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْتُهُمْ جمعات یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا جیسا کہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تا کہ اول اور آخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔ غرض پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے اُن کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کر دیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے یا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ و انثى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا (الجز نمبر ۲۶ سورة الحجرات) اور پھر فرماتا ہے لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا الكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْري - الجزء نمبر 4 سورۃ المائدة ( ترجمہ ) اے لوگو! ہم نے مرد اور عورت سے تمہیں پیدا کیا ہے اور ہم نے تمہارے کنبے اور قبیلے مقرر کئے یہ اس لئے کیا کہ تاتم میں باہم تعارف پیدا ہو اور ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہر کر دیں پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کر لو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔ غرض مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر خدا نے نوع انسان کو کئی قوموں پر منقسم کر دیا۔ پہلے زمانہ کے لوگ تو آبائی رشتہ کے سلسلہ میں منسلک تھے اور ان میں وحدت قرابت حاصل تھی اور پھر جب بہت سی قومیں بن گئیں تو ہر ایک قوم میں وحدت قائم کرنے کے لئے کتا بیں بھیجی گئیں اور اُس زمانہ میں ہر ایک حصہ ملک میں صرف قومی وحدت حاصل ہوسکتی تھی اس سے زیادہ نہیں یعنی تمام دنیا کی وحدت غیر ممکن تھی ۔ اور پھر تیسرا زمانہ ایسا آیا جس میں اقوامی وحدت کے سامان پیدا ہو گئے یعنی تمام دنیا کی وحدت کے سامان ظہور میں آگئے اور ہر ایک زمانہ جو نوع انسان پر آیا وہ اس بات کا مقتضی تھا جو اس زمانہ کے مطابق کتاب دی جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی وحدت کا جب خدا نے الكهف: ١٠٠ الحجرات :۱۴ المائدة : ٤٩