چشمہٴ معرفت — Page 143
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۳ چشمه معرفت سنتا تھا اب بھی سنتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہمارے اس زمانہ میں خدا کی قوت شنوائی تو بدستور بحال (۱۳۵) ہے لیکن قوت کلام مفقود ہو گئی اور کیا یہ سچ نہیں کہ پہلے زمانہ کے بعد جو زمانے آئے اُن میں دن بدن معصیت اور گناہ بڑھتا گیا اور اس قدر نئے نئے گناہ پیدا ہوئے جو پہلے زمانہ میں ان کا نام ونشان نہ تھا تو کیا ایسی حالت میں یہ ضروری نہ تھا کہ خدا تعالی تازہ گناہوں اور نو پیدا خراب عقیدوں کے لئے کوئی نئی کتاب بھیجتا جو موجودہ مفاسد کے دور کرنے کے لئے پورے زور سے اپنی زبر دست ہدایتیں پیش کرتی اور اپنے خوفناک نشانوں کے ساتھ خدا کی طرف توجہ دلاتی نہ یہ کہ خدا اس قد رطوفان دیکھنے کے بعد بالکل چپ ہی ہو جاتا اور یہ کہتا کہ وید کے ورق چاٹا کرو اور اس سے بڑھ کر کوئی ہدایت میرے پاس نہیں اور آئندہ کسی نئی ہدایت کی امید نہ رکھو! اور اگر یہ کہو کہ وید میں پہلے سے یہ سب احکام موجود ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں ہوگا کیونکہ تم خود اقرار رکھتے ہو اور عقل بھی یہی تجویز کرتی ہے کہ پہلا زمانہ ان گناہوں اور بدعقیدوں سے خالی تھا جو پیچھے سے پیدا ہوئے تو پھر جب پہلے زمانہ میں بد عقیدے اور گناہ موجود ہی نہیں تھے تو اُن سے منع کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ یہ تو نا معلوم بدکاری اور بد عقیدہ کا یاد دلانا ہے اور اگر کہو کہ وید نے بطور پیشگوئی سب بُرے احکام اور بُرے عقیدے بیان کر دیئے ہیں کہ آئندہ ایسا ہوگا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ تم خود اقرار رکھتے ہو کہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں علاوہ اس کے ہم تو اس فیصلہ پر بھی راضی ہیں کہ جس قدر قرآن شریف نے بد عقیدوں اور بد اعمال کا حال بیان کیا ہے یا وہ عقیدے جو قرآن شریف نے بیان فرمائے مگروید کی رو سے بد عقیدے ہیں ایسا ہی وہ بد اعمال جو دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں مفصل مذکور ہے آریہ لوگ وید میں سے ہم کو نکال دیں ایسے طور سے کہ جیسے غیر فرقے قرآن شریف کو پڑھ کر اس کے قائل ہیں کہ یہ سب باتیں اس میں مذکور ہیں وید کی نسبت بھی یہی اقرار کر سکیں ایسا ہی خدا کی ہستی اور توحید کے دلائل جو قرآن شریف میں لکھے ہیں جو مخالف فرقے اس کے قائل ہیں یہ سب آریہ صاحبان دید میں سے نکال کر ہم کو دکھلاو میں تو ہم ہزار روپے نقد ان کو دینے کو تیار ہیں۔افسوس! کہ یہ کس قدر جھوٹ