چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 131

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۱ چشمه معرفت ہیں اُن کے بچے نہیں ہوتے۔ کیا زمین کے نیچے کے طبقہ میں رہنے والے کیڑے جو کبھی باہر ۱۲۳ نہیں آتے اُن کی کسی غذا پر شبنم کے طور پر روح برستی ہے۔ پس مجھے تعجب ہے کہ جو لوگ ایسے وید پر ایمان لاتے ہیں جو سراسر خلاف واقعہ باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے اس کلام پر اعتراض کرتے ہیں جو سراسر حق اور حکمت سے مملو ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ جس کتاب میں قوانین قدرت کے خلاف تعلیم ہو وہ الہامی نہیں ہو سکتی مگر افسوس ! کہ ان لوگوں کو کچھ بھی شرم اور حیا نہیں ۔ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ وید کی تعلیم قانون قدرت کے برخلاف ہے اور برخلاف بھی ایسی کہ کھلی کھلی سچائی سے انکار ہے جیسا کہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ روح دوبارہ کسی گھاس پات کے ذریعہ سے پیٹ میں چلی جاتی ہے حالانکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ روح پیدا ہوتی ہے جیسا کہ ہم کئی بار لکھ برخلاف ہے یہ چکے ہیں۔ ۔ پس قرآن شریف کی تعلیم پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ قانون قدرت کے برخلاف ۔ نری جہالت ہی نہیں بلکہ بے حیائی اور جہالت دونوں ملے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا یہ قول کہ معلوم شده قوانین کا ردنا معلوم قوانین سے کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ اعتراض تو در حقیقت وید پر ہی عائد ہوتا ہے کیونکہ جبکہ معلوم ہو چکا ہے کہ آسمان سے کوئی روح نہیں برستی بلکہ بقدرت قادر اندر سے ہی پیدا ہو جاتی ہے تو پھر وید کا یہ قول کہ آسمان سے بطور شبنم برستی ہے یہ قول تو اس لائق بھی نہیں کہ اس کو نا معلوم قوانین میں بھی داخل کریں کیونکہ امور محسوسہ و مشہودہ سے اس کا بطلان ثابت ہو چکا ہے۔ پس کیا یہی وید ہے جس پر ناز کیا جاتا ہے۔ افسوس !! مضمون پڑھنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ وید میں لکھا ہے کہ جانوروں سے پیار کرو کیونکہ وہ سب انسان ہیں لیکن افسوس ! کہ ہم ایسا پیار مشاہدہ نہیں کرتے ۔ اگر کسی آریہ کے کسی حصہ بدن پر پھوڑا ہو اور ڈاکٹر اُس کا علاج جو کیں بتلاوے تو فی الفور جو کیں لگائی جاتی ہیں جو بعض اوقات اس زہر کو چوس کر سب کی سب مر جاتی ہیں اور کوئی آریہ یہ خیال نہیں کرتا کہ میں مر جاؤں تو بہتر ہے ایک عاجز جونک کو کیوں