چشمہٴ معرفت — Page 126
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۶ چشمه معرفت شبنم کی طرح کوئی روح کسی گھاس پات پر گرے تو یہ قاعدہ کیسے صحیح اور درست ہوسکتا ہے جو لوگ اس بات کے قائل ہیں جو نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اور بدن سے نکلی ہوئی روح پھر کسی راہ سے واپس آسکتی ہے اُن کا یہ فرض ہے کہ اس بات کو ثابت کریں کہ کس راہ سے اور کس طور (۱۸) سے روح باہر سے اندر داخل ہو جاتی ہے اور وہ اس مواخذہ سے بری نہیں ہو سکتے اور اس بار ثبوت سے اُن کے لئے سبکدوشی ممکن نہیں جب تک کہ وہ ہمیں یہ دکھلا نہ دیں کہ جس طرح اور جس طریق سے مثلاً ایک انسان کی روح اس کے جسم سے باہر نکل جاتی ہے اور اس کے نکلنے میں کسی کو شک اور اختلاف نہیں ہوتا اسی طرح وہ روح کس راہ سے واپس آجاتی ہے؟ مگر ہمارے ذمہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ کیونکر روح پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہم پیدا ہونے کا مشاہدہ کرا دیتے ہیں اور اس بارہ میں ہم ہزار ہا نمونے پیش کرتے ہیں جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں مگر ہمارے مخالف آر یہ جو اُسی پہلی روح کو واپس لاتے ہیں یہ بار ثبوت ان کی گردن پر ہے کہ واپسی کی راہ ہمیں دکھلا دیں۔ اگر وہ یہ بھی اقرار کریں کہ دیا نند نے جھوٹ بولا ہے اور غلطی کی ہے تو صرف اس قدر اقرار سے اُن کا پیچھا چھوٹ نہیں سکتا بلکہ یہ بات اُن کے ذمہ ہے کہ روح کی واپسی کی راہ ہمیں ثابت کر کے دکھلا دیں ورنہ حیا اور شرم سے سوچیں کہ ہم تو اُن کو دکھلا رہے ہیں کہ روح پیدا ہوتی ہے مگر وہ ہمیں دکھلا نہیں سکتے کہ باہر سے آتی ہے۔ یہی اُن کا ایک عقیدہ ہے جس سے سارا و ید رد ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بمقام ہوشیار پور مجھے ایک آریہ مرلیدھر نام سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور میں نے اُس کے آگے یہی بات پیش کی کہ دیا نند کا یہ قول کہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اُس کو کوئی شخص کھالیتا ہے تو روح اس ساگ کے ساتھ ہی اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے یہ سراسر باطل قول ہے اور اس سے روح کا دو ٹکڑہ ہونا لازم آتا ہے اور اس تقریر میں میں نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دیا جو دیا نند کی ایک کتاب ہے تب مرلید ھر نے ستیارتھ پر کاش پیش کی کہ کہاں اس میں ایسا لکھا ہے تب میرے دل