چشمہٴ معرفت — Page 122
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۲ چشمه معرفت بیان کر دی یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر و اعلیٰ مقام پر ہے کوئی چیز اُس کی شبیہ اور شریک نہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کی توحید کامل طور پر ثابت ہوگئی۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے تیسری صفت وید کے پرمیشر کی یہ بیان کی کہ وید کو دینے والا پر میشر جھوٹ نہیں بولتا مگر ہمیں معلوم نہیں کہ اس شخص کی اس مقولہ سے کیا غرض ہے کیا خدا جھوٹ بھی بولا کرتا ہے؟ شاید وہ اس تقریر سے وید کے بعض کلمات کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے۔ سو اُس کی یاد دہانی سے جب ہم نے دید کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا که در حقیقت وید کے پرمیشر نے کئی جگہ وید میں جھوٹ بولا ہے چنانچہ وید کا یہ صریح جھوٹ ہے جو پنڈت دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں وید کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب روح بدن سے نکلتی ہے تو وہ اکاش میں پہنچ کر پھر رات کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اس گھاس کو کوئی کھا لیتا ہے تو وہ روح نطفہ کی شکل میں ہوکر عورت کے اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بتلاؤ کہ اس سے زیادہ کون سا جھوٹ ہوگا کہ روح کو ایک جسمانی چیز بنا دیا اور نیز اگر یہ بات سچ ہے کہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ روح دوٹکڑے ہو کر زمین پر گرتی ہے کیونکہ اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ بچہ کو روحانی اخلاق کچھ تو باپ سے حاصل ہوتے ہیں اور کچھ ماں سے جیسا کہ اس کی جسمانی صورت بھی باپ اور ماں میں مشترک ہوتی ہے ۔ پس اگر مثلاً کسی بچہ کا باپ لا ہور کا رہنے والا تھا اور ماں کلکتہ کی رہنے والی اور ریل کے ذریعہ سے ان دونوں کو کسی مقام میں ایک ہی دن میں اجتماع اور ہم بستری نصیب ہو گئی اور اُس بچہ کا نطفہ ٹھیر گیا اور اس نطفہ کی غذا لا ہور کے رہنے والے نے لاہور میں کھائی تھی اور کلکتہ والی نے کلکتہ میں ۔ پس اس سے لازم آئے گا کہ وہ روح