چشمہٴ معرفت — Page 121
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۱ چشمه معرفت خدا ہی سمجھ لیا اور فرض کرو کہ اگنی وغیرہ پر میشر کے نام ہی تھے لیکن پھر بھی خدا کا یہ اسم اعظم کہ وہ ہر ایک مخلوق سے وراء الوراء مقام پر ہے اور مصنوعات سے برتر و بلند ہے وید میں بیان نہیں کیا گیا۔ پس اسی وجہ سے یہ تمام باطل مذہب وید کے ذریعہ سے پیدا ہو گئے۔ بلکہ وید بات بات میں مخلوق پرستی کی طرف کھینچتا ہے اور خدا تعالیٰ کومحدود ٹھہراتا ہے۔ چنانچہ یجر دیدا دھیا نمبر اس منتر 19 میں لکھا ہے کہ پر میشر حمل کے اندر رہتا ہے اور تولد ہو کر بہت (۱۳) سی صورتیں اور شکلیں ہو جاتا ہے اور فاضل لوگ اُس پر میشر کو جو رحم میں رہتا ہے ہر طرف سے دیکھتے ہیں۔ اب دیکھو کہ وید نے پر میشر کو کیسا محدود کر رکھا ہے کہ ہر ایک محدود چیز کا نام اُس کو دیا گیا اور بموجب بیان رگ وید کے سورج۔ اگنی ۔ وایو ۔سب پر میشر ہی ہیں ۔ اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ جیسے پر میشر رحم میں رہتا ہے ایسا ہی وہ سورج کے سنہری پردہ میں بھی رہتا ہے جیسا کہ یجر وید کے الیش اپنشد منتر ۱۵و۶ اسے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ ناف سے دنل انگلی کے فاصلہ پر بھی ہے جس سے ہندوؤں میں لنگ پو جا شروع ہوگئی ۔ پس اگر وید قرآن شریف کی طرح خدا تعالیٰ کی تنزیہی صفات بھی لکھتا اور صرف تشبیہی صفات پر حصر نہ رکھتا تو یہ طوفان مخلوق پرستی کا اس کے ذریعہ سے پیدا نہ ہوتا۔ قرآن شریف اسی وجہ سے ہر ایک دھوکہ دہی کی بات سے محفوظ ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکلی پاک رہتی ہے کیونکہ اول اُس نے خدا تعالی کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر وہ انسان سے قریب ہے اور کیونکر اُس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے ان صفات کا نام تو تشبیہی صفات ہیں پھر چونکہ تشہیبی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صفت