چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 116

روحانی خزائن جلد ۲۳ ١١٦ چشمه معرفت ۱۸ کوئی ایسی کتاب جو الہامی سمجھی جاتی ہے صفحہ زمین پر پائی نہیں جاتی جو خدا تعالیٰ کو تمام صفات کا ملہ سے متصف اور تمام عیوب اور نقصانوں سے پاک سمجھتی ہو ۔ ہاں قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی صفات میں اس قسم کا مکر بھی داخل رکھا ہے جو اُس کی ذات پاک کے منافی نہیں اور جس میں کوئی امر اُس کے تقدس اور اُس کی بے عیب ذات کے مخالف نہیں اور جس پر خدا کا قانون قدرت بھی گواہی دیتا ہے اور اس کی قدیم عادت میں پایا جاتا ہے اور خدا کا مکر اس حالت میں کہا جاتا ہے اور اُس کے اس فعل پر اطلاق پاتا ہے کہ جب وہ ایک شریر آدمی کے لئے اُسی کے پوشیدہ منصوبوں کو اُس کے سزا یاب ہونے کا سبب ٹھیراتا ہے۔ قرآن شریف کے رو سے یہی خدا کا مکر ہے جو مکر کرنے والے کے پاداش میں ظہور میں آتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ یعنی کافروں نے ایک بد مکر کیا کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ معظمہ سے نکال دیا اور خدا نے اُن کے مقابل پر ایک نیک مکر کیا کہ وہی نکالنا اس رسول کی فتح اور اقبال کا موجب ٹھیرا دیا۔ پس خدا نے اس جگہ اپنا نام خیر الماکرین رکھا یعنی ایسا مکر کرنے والا جو نیک مکر ہے نہ بد مکر ۔ اور کافروں کے مکر کو بدمکر قرار دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مکر کو دو ستم پر تقسیم کیا ہے۔ ایک بد مکر اور ایک نیک مکر ۔ پس خدا نے نیک مکر اپنی صفات میں داخل کیا ہے اور بد مکر کافروں اور شریر لوگوں کی عادات میں قرار دیا۔ اب اے ہندو زاد و ! جنہوں نے بدذاتی سے خدا کے مقدس رسول اور مقدس کتاب کو گالیاں دینی شروع کی ہیں کچھ حیا کر کے بتلاؤ کہ اس قسم کے مکر میں کون سی خدا تعالیٰ کی کسر شان ہے اور خدا کی کن صفات کے وہ مخالف ہے ۔ کیا خدا کا قانونِ قدرت اس پر گواہی نہیں دیتا کہ شریر لوگوں کے ہلاک کرنے کے لئے جو بد مکروں سے ال عمران: ۵۵