چشمہٴ معرفت — Page 108
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۸ چشمه معرفت ۱۰۰ پس ایسا شخص جو ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتا ہے اگر وہ بیمار ہو کر کسی طبیب کی خدمت میں حاضر ہو تو اُس کو سوچنا چاہیے کہ کیا جب طبیب بیماری کے عوارض بدلنے کی وجہ سے نسخہ کو بدلا نا چاہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اے طبیب ! تو بیوقوف ہے کیونکہ یہ دوسرا نسخہ تجھے بعد میں ایک غلطی کر کے سوجھا ہے پہلے تو نے یہ نسخہ کیوں نہ لکھا۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے جاہل اور نادان ہیں کہ جو انسانی فطرت کو تبدیلیاں لازم ہوئی ہیں اُن سے بھی بے خبر ہیں۔ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان مختلف زمانوں میں اپنے اخلاق اور اعمال اور عقائد اور اپنی تمدنی صورتوں اور قومی عادات میں بڑے بڑے پلٹے کھاتے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہر ایک انقلاب کے موافق اپنی طرف سے کوئی کتاب بھیجتا رہا ہے کیا یہ ایسی باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آسکتی تھیں بلکہ اکثر آدمی محض تعصب اور شرارت سے سچائی کے دشمن بن جاتے ہیں ایک بوڑھی عورت بھی جو چنداں عقل اور ہنر نہیں رکھتی اپنے بچے کی عمر اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ اُس کے طریق تعبد میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے ایک وہ زمانہ ہوتا ہے جو بچہ صرف دودھ پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اور پھر دوسرا زمانہ آتا ہے کہ کچھ نرم نرم غذا بھی دینا شروع کرتی ہے۔ اور پھر تیسر ا زمانہ آتا ہے کہ قطعاً اُس کو دودھ دینا بند کر دیتے ہیں اور بچہ گوروتا ہے مگر اس کی کچھ بھی پروانہیں کی جاتی اور پھر اوائل میں جو بچہ کو پاجامہ پہنایا جاتا ہے آگے پیچھے سے ایک چاک چھوڑ دیتے ہیں تا پیشاب کرنے اور پاخانہ پھرنے میں اُس کو تکلیف نہ ہو اور پھر جب کچھ ہوش سنبھل جاتا ہے تو پھر وہ چاک بند کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تبدیلیاں وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ تبدیلی محض لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے ایک تدبر کی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ خدا نے انسان کے جسمانی رزق پیدا کرنے میں بھی جو قانون قدرت رکھا ہے وہ بھی تبدیلیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک موسم اُس نے بارشوں کے لئے مقر رکیا ہے اور پھر دوسرا موسم دھوپ کا ہے کیونکہ اگر بارشیں ہی ہوتی رہیں اور دھوپ کی نوبت نہ آئے تو تمام تخم جو بویا گیا ہے پانی میں بہ جائے اور اگر دھوپ ہی رہے اور بارشیں نہ ہوں تو تم