چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 101

1+1 چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے وبس۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ (۹۳) بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اُس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اُس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھیرایا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ جس کتاب میں قانونِ قدرت کے برخلاف تعلیم ہو وہ کتاب الہامی نہیں ہو سکتی۔ اس تقریر سے اُس نے وید پر حملہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ وید پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اگر در حقیقت الہامی کتاب کے لئے یہی شرط ہے جو اس نے بیان کی ہے تو اس شرط کو ہر گز وید نے پورانہیں کیا کیونکہ وید خدا کے قانون قدرت سے ہر ایک پہلو میں مخالف ہے مثلاً وید آئندہ زمانہ کے لئے جو وید کے بعد زمانہ ہے یہ اقرار نہیں کرتا کہ خدا کے الہام کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ قانون قدرت شہادت دیتا ہے کہ ضرور الہام کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے وجہ یہ کہ قانون قدرت کی رو سے خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور روحانی میں تطابق پایا جانا ضروری ہے تا وہ تطابق اس بات پر دلالت کرے کہ ان دونو نظاموں کا بنانے والا ایک خدا ہے مگر الہام کو صرف ایک خاص زمانہ تک ختم کر کے تطابق باقی نہیں رہتا کیونکہ اس بات سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ جسمانی ضرورتوں کے لئے ہمیشہ خدا نے اپنے فیضان کا دروازہ کھلا رکھا ہے چنانچہ بھوک کے لئے اس زمانہ میں بھی اناج موجود ہے جیسا کہ پہلے موجود تھا اور پیاس کے لئے اب بھی آسمان سے پانی برستا ہے جیسا کہ پہلے برستا تھا جس سے زمینی پانی دریاؤں اور کنووں کے بکثرت ہو جاتے ہیں پھر روحانی حاجتوں کا کیوں دروازہ بند کیا گیا۔ کیا روحانی پیاسوں کو اب اس پانی کی ضرورت نہیں ہے جو روحانی طور پر سیراب کرتا ہے یعنی کیا اب اس بات کی حاجت نہیں کہ نوع انسان خدا کے تازہ بتازہ نشانوں اور معجزات کے ذریعہ سے شکوک وشبہات سے نجات پا کر اور یقین کے مرتبہ تک پہنچ کر پوری تسلی پاویں۔ کیا یہی وید و ڈ یا پیش کی جاتی ہے کہ جسمانی حاجات کے پورا کرنے کا تو اب تک خدانے دروازہ بند نہیں کیا مگر روحانی حاجات کے پورا کرنے کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ غرض وید تو اس جگہ تطابق دکھلانے سے رہ گیا۔