چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 98

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۸ چشمه معرفت (۹۰) اور تغیر پذیر ہے اور وہ جو باقی رہنے والا ہے وہی خدا ہے یعنی ہر ایک چیز فنا قبول کرتی ہے اور تغیر قبول کرتی ہے مگر انسانی فطرت اس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہے کہ اس تمام عالم ارضی اور سماوی میں ایک ایسی ذات بھی ہے کہ جب سب پر فنا اور تغیر وارد ہو اس پر تغیر اور فتا وارد نہیں ہوگی وہ اپنے حال پر باقی رہتا ہے وہی خدا ہے لیکن چونکہ زمین پر گناہ اور معصیت اور ناپاک کام بھی ظاہر ہوتے ہیں اور خدا کو صرف زمین تک محد و در رکھنے والے آخر کار بت پرست اور مخلوق پرست ہو جاتے ہیں جیسا کہ تمام ہندو ہو گئے۔ اس لئے قرآن شریف میں ایک طرف تو یہ بیان کیا کہ خدا کا اپنی مخلوق سے شدید تعلق ہے اور وہ ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک ہستی اُسی کے سہارے سے ہے۔ پھر دوسری طرف اس غلطی سے محفوظ رکھنے کے لئے کہ تا اس کے تعلق سے جو انسان کے ساتھ ہے کوئی شخص انسان کو اُس کا عین ہی نہ سمجھ بیٹھے جیسا کہ ویدانت والے سمجھتے ہیں۔ یہ بھی فرما دیا کہ وہ سب سے برتر اور تمام مخلوقات سے وراء الوراء مقام پر ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں عرش کہتے ہیں اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے صرف وراء الوراء مرتبہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایسا تخت ہے جس پر خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح بیٹھا ہوا تصور کیا جائے بلکہ جو مخلوق سے بہت دور اور تنزہ اور تقدس کا مقام ہے اس کو عرش کہتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ سب کے ساتھ خالقیت اور مخلوقیت کا تعلق قائم کر کے پھر عرش پر قائم ہو گیا یعنی تمام تعلقات کے بعد ا الگ کا الگ رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا۔ غرض خدا کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا یہ خدا کی تشبیهی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا ہے کہ تا وہ انسان پر اپنا قرب ثابت کرے اور خدا کا تمام مخلوقات سے وراء الوراء ہونا اور سب سے برتر اور اعلیٰ اور دور تر ہونا اور اس تنزہ اور تقدس کے مقام پر ہونا جو مخلوقیت سے دور ہے جو عرش کے نام سے پکارا جاتا ہے اُس صفت کا نام تنزیہی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا تا وہ اس سے اپنی توحید اور اپنا وحدہ لاشریک ہونا اور مخلوق کی صفات سے اپنی ذات