چشمہٴ معرفت — Page 97
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۷ چشمه معرفت پس ایسی کتاب کیونکر قبول کرنے کے لائق ہے جو اپنی حیثیت اور مرتبہ میں ایک مکھی کے برابر بھی (۸۹) نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں؟ کہ مکھی کو دیکھ کر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے بنانے پر انسان قادر نہیں ہوسکتا مگر کیا وید کو کوئی عقلمند پڑھ کر کہہ سکتا ہے؟ کہ اس کے بنانے پر بھی انسان قادر نہیں۔ پس اگر مکھی کے موافق بھی جو ایک ذلیل تر جاندار ہے وید میں کوئی انجو بہ نہیں تو عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ اُس خدا کا کلام ہے جس کا قول ایسا بے نظیر ہونا چاہیے جیسا کہ اُس کا فعل بے نظیر ہے۔ رہا یہ قول مضمون خواں صاحب کا کہ اس کے خیال کے موافق اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ گویا خدا انسان کی طرح آسمان پر بیٹھا ہوا ہے سو یہ محض اس کی نا واقعی ہے چونکہ ہندو لوگ محض اپنی جہالت اور بخل اور تعصب کی راہ سے قرآن شریف پر ایک نظر تدبر بھی نہیں ڈالتے اس لئے ایسے ایسے شیطانی اعتراض ان کو سو جھتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہے زمین پر بھی ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے هُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهُ وَ فِي الْأَرْضِ الهُ یعنی زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا اور فرمایا کہ کسی پوشید و مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكَ الأَبْصَار کے یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ " یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا کہ انَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهِ " یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا وہ ہے جو زمین اور آسمان میں اُسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ نے یعنی ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا حاشیه قرآن شریف کی اس بارہ میں یہ آیت ہے مَا يَكُونُ مِنْ نَّجْوَى ثَلُثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةِ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ کے یعنی تین شخص کوئی ایسا پوشیدہ مشورہ نہیں کرتے جس کا چوتھا خدا نہ ہو اور نہ پانچ کرتے ہیں جن کا چھٹا خدا نہ ہو۔ منہ الزخرف : ۸۵ الانعام ۱۰۴ ۳ ق :۱۷ الانفال : ۲۵ ۵ النور : ۳۶ ل الرحمن : ۲۷، ۲۸ ك المجادلة : ٨