چشمہٴ معرفت — Page 90
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۰ چشمه معرفت (۸۲) اپنی علمی اور عملی حالت میں قوت پیدا کرے کیونکہ وہ خدا جس کو کسی نے بھی نہیں دیکھا اُس پر یقین لانے کے لئے بہت گواہوں اور زبردست شہادتوں کی حاجت ہے جیسا کہ دو آیتیں قرآن شریف کی اس واقعہ پر گواہ ہیں۔ اور وہ یہ ہیں وَإِنْ مِنْ أُمَةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ڈرانے والا نبی نہیں بھیجا گیا یہ اس لئے کہ تاہر ایک قوم میں ایک گواہ ہو کہ خدا موجود ہے اور وہ اپنے نبی دنیا میں بھیجا کرتا ہے اور پھر جب اُن قوموں میں ایک مدت دراز گذرنے کے بعد باہمی تعلقات پیدا ہونے شروع ہو گئے اور ایک ملک کا دوسرے ملک سے تعارف اور شناسائی اور آمد و رفت کا کسی قدر دروازہ بھی کھل گیا اور دنیا میں مخلوق پرستی اور ہر ایک قسم کا گناہ بھی انتہا کو پہنچ گیا۔ تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ واحد لاشریک ہے اُن میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی یعنی جس کا خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا۔ یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے اس لئے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو دوست رکھتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی ۸۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قو میں ایک فاطر: ۲۵ النساء : ۴۲