چشمہٴ معرفت — Page 89
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۹ چشمه معرفت اور خدا کی زبر دست اور ہیبت ناک عجائبات سے مدد لے اُن نشانوں کی مانند جو بنی اسرائیل کی سرکش قوم کے ڈرانے کے لئے کوہ طور میں دکھلائے گئے تھے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الفور سے یعنی کوہ طور میں نشان کے طریق پر بڑے بڑے زلزلے آئے اور خدا نے طور کے پہاڑ کو یہود کے سروں پر اس طرح پر لرزاں کر کے دکھلایا کہ گویا اب وہ ان کے سروں پر پڑتا ہے تب وہ اس ہیبت ناک نشان کو دیکھ کر بہت ڈر گئے ۔ اسی طرح مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ہوگا۔ اور جو ہم نے چار مختلف زمانے بیان کئے ہیں اُن سے بھی یا جوج ماجوج کے زمانہ میں جو آخری زمانہ ہے مسیح موعود کا آنا ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب کہ پہلے زمانہ میں کہ دنیا میں تھوڑے سے آدمی تھے اور صرف ایک ہی قوم تھی بلکہ قوم سے بھی کمتر تھی اور شرک اور کفر اور انواع و اقسام کے گناہوں کا نام ونشان نہ تھا اور انسانی طبیعتیں سادہ اور پاک اور نفسانی جذبات سے محفوظ تھیں۔ تو اُس ابتدائی زمانہ میں خدا نے رسول بھیجا تا ظاہر کرے کہ جیسا کہ ایک انسان سے ایک قوم پیدا ہوئی ایسا ہی خدا بھی اُن کا ایک ہے اور وہی ان کا مالک اور وہی اُن کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی اُن کا معبود ہے اُسی نے پیدا کیا تا ان کو اپنی معرفت بخشے اور اُن کی عبادت کے ذریعہ سے اُن پر انعام و اکرام کرے اور اپنی مرضی کی راہ سکھا کر ان کو ہمیشہ کا آرام دے۔ اور ایسا ہی جب ایک قوم سے کئی قومیں بن گئیں اور ایک دوسرے سے الگ ہو کر مختلف ملکوں میں پھیل گئے اور گناہ اور شرک کا گندہ مادہ بھی اُن میں پیدا ہو گیا گوا بھی کمال تک نہ پہنچا۔ تب اُس وقت بھی خدا تعالیٰ نے ہر ایک قوم کی اصلاح کے لئے ہر ایک ملک میں رسول بھیجے تا نبوت کی روشنی کو دنیا کے ہر ایک کو نہ میں چمکا کر مختلف شہادتوں سے اپنی ہستی اور اپنے وجود اور اپنی وحی کا ثبوت دے اور تا مختلف کتابوں کی گواہیوں سے اس بات کا ثبوت دے کہ فلاں فلاں امر اُس کے نزدیک گناہ اور قابل نفرت اور مکروہ ہے اور فلاں فلاں امر اس کی رضامندی کا موجب ہے اور تا اس طرح پر انسان یقین کے درجہ تک پہنچ کر البقرة : ٦٤