چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 84

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۴ چشمه معرفت بڑا تفرقہ پھیل جائے گا اور بڑی پھوٹ اور بغض اور کینہ لوگوں میں پیدا ہو جائے گا اور جب یہ باتیں کمال کو پہنچ جائیں گی تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اُس کی قرنا ہے ایک ایسی آواز دنیا کو پہنچائے گا جو اس آواز کے سننے سے سعادت مند لوگ ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہو جائیں گے اور تفرقہ دور ہو جائے گا اور مختلف تو میں دنیا کی ایک ہی قوم بن جائیں گی۔ اور پھر دوسری آیت میں فرمایا۔ وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَيدٍ لِلْكَفِرِينَ عَرضًا ل اور اُس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے (۷۶) بقيه حاشیه : (۳) تیسری قسم کی وہ باتیں ہیں جو قرآن شریف میں اگر چہ ان کا ذکر مفصل نہیں مگر وہ باتیں قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو بالکل مطابق ہیں جیسے مثلاً یا جوج ماجوج کی قوم کہ اجمالی طور پر ان کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں تمام زمین پر ان کا غلبہ ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اور یہ خیال که یا جوج ماجوج بنی آدم نہیں بلکہ اور قسم کی مخلوق ہے یہ صرف جہالت کا خیال ہے کیونکہ قرآن میں ذ والعقول حیوان جو عقل اور فہم سے کام لیتے ہیں اور مور د ثواب یا عذاب ہو سکتے ہیں وہ دو ہی قسم کے بیان فرمائے ہیں (۱) ایک نوع انسان جو حضرت آدم کی اولاد ہیں (۲) دوسرے وہ جو جنات ہیں انسانوں کے گروہ کا نام معشر الانس رکھا ہے اور جنات کے گروہ کا نام معشر الجن رکھا ہے۔ پس اگر یا جوج ماجوج جن کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کا وعدہ ہے معشر الانس میں داخل ہیں یعنی انسان ہیں تو خواہ نخواہ ایک عجیب پیدائش ان کی طرف منسوب کرنا کہ ان کے کان اس قدر لمبے ہوں گے اور ہاتھ اس قدر لمبے ہوں گے اور اس کثرت سے وہ بچے دیں گے ان لوگوں کا کام ہے جن کی عقل محض سطحی اور بچوں کی مانند ہے اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کی قو میں ان معنوں میں ضرور لمبے کان رکھتی ہیں کہ بذریعہ تار کے دور دور کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا نے بڑی اور بحری لڑائیوں میں اُن کے ہاتھ بھی نبرد آزمائی کی وجہ سے ل الكهف : ١٠١ الانبياء : ۹۷