چشمہٴ معرفت — Page 81
روحانی خزائن جلد ۲۳ ΔΙ چشمه معرفت اس جگہ اس نکتہ کا ذکر کرنا بے جانہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ابتدائے آفرینش ۷۳ سے لے کر خیر تک نوع انسان کے زمانہ کو چار مختلف حالتوں اور مختلف زمانوں پر تقسیم کیا ہے۔ (1) پہلے اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب صرف ایک انسان معہ اپنے قلیل مقدار کنبہ کے دنیا میں موجود تھا اور ایک وحدت قومی ان کو حاصل تھی اور ایک مذہب تھا۔ (۲) دوسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ وحدت دور ہو کر تفریق پیدا ہو گئی اور انسان کی نسل مختلف قوموں اور مختلف مذہبوں کے رنگ میں ہو کر تمام دنیا میں پھیل گئی اور وہ دنیا کے ایسے دور دور کونوں میں جابسی کہ ایک دوسری کے حالات سے بے خبر ہو گئی اور ایک قوم سے ہزاروں قو میں بن گئیں اور ایک مذہب سے ہزاروں مذہب نکل آئے۔ (۳) تیسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب پھر کچھ کچھ شناسائی ایک قوم کی دوسری قوم سے ہوئی اور بہت سی مشقت سفر اُٹھا کر ملاقات کی راہ کھل گئی اور مختلف قوموں کے پھر باہمی تعلقات پیدا ہونے لگے اور ایک قوم دوسری قوم کے مذہب کو اختیار کرنے لگی مگر بہت کم ۔ (۴) چوتھے بطور پیشگوئی یہ بیان فرمایا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ جب سفر کرنے کے سامان سہل طور پر میسر آجائیں گے اور اونٹنیوں کی سواری کی حاجت نہیں رہے گی اور سفر میں بہت آرام اور سہولیت میسر آجائے گی اور ایک ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی کہ ایک حصہ دنیا کو دوسرے حصہ سے ملا دے گی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں سے اکٹھے کر دے گی جیسا کہ یہ دو آیتیں اسی پیشگوئی پرمش پر مشتمل ہیں اور وہ یہ ہیں وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ ۖ وَإِذَا النُّفُوْسُ زوجت سے یعنی وہ زمانہ آتا ہے کہ اونٹنیاں بریکار کر دی جائیں گی۔ جاننا چاہیے کہ عرب کی تجارت اور حاشیه: قیامت کے قرب اور مسیح موعود کے آنے کا وہ زمانہ ہے جبکہ اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی یہ آیت صحیح مسلم کی اس حدیث کی مصدق ہے جہاں لکھا ہے کہ ویترک القلاص فلا يسعى عليها یعنی مسیح موعود (۷۴) کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی اور ان پر کوئی سوار نہیں ہوگا ۔ یہ ریل گاڑی پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب کوئی اعلیٰ سواری میسر آتی ہے تبھی اونی سواری کو چھوڑتے ہیں اور دوسری آیت گویا التكوير : ۵ - التكوير : ۸