چشمہٴ معرفت — Page 79
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۹ چشمه معرفت آدمی مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے۔ دیانند نے جس قدروید کی حمایت میں تکلفات کئے اے ہیں وہ سب بے ہودہ اور پھر ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ دیا نند نے اصلی وید کی طرف آرین لوگوں کو رجوع نہیں ولایا بلکہ اُس نے زمانہ کی ہوا کو دیکھ کر ایک نیا وید بنا کر پیش کیا ہے چونکہ کئی کروڑ ہندو وید سے بیزار ہو کر مسلمان ہو چکے تھے اس لئے اُس نے خواہ نخواہ وید میں تو حید کو دکھلانا چاہا۔ سو اس بات کے ثابت کرنے سے وہ نامراد مرا۔ وید کی حالت آزمانے کے لئے سہل طریق یہ ہے کہ ایک تحت اللفظ ترجمہ اُس کا جس میں بطور شرح اپنی طرف سے کوئی فقرہ نہ ملایا جائے کسی غیر قوم کی طرف بھیج دو تو پھر اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ وید کی ان عبارتوں سے تو حید ثابت ہوتی ہے یا مخلوق پرستی۔ اور پھر ہم اپنے مضمون کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ ہماری اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ خیال کہ صرف ابتدائے آفرینش میں ہی الہامی کتاب انسانوں کو دی گئی ہے بعد میں کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ یہ خیال جیسا کہ ثابت شدہ واقعات کے برخلاف ہے ایسا ہی عقل کے بھی بر خلاف ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے جسمانی قانون قدرت کو بھی دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان ہمیشہ اپنی موجودہ حالت کے موافق ہر ایک زمانہ میں خدا کی تربیت کی محتاج ہے کیونکہ اگر موجودہ حالت میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے کہ جو پہلے زمانہ میں نہیں تھی تو کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کی تربیت اس تبدیلی کے موافق ہونی چاہیے مثلاً تم غور کر لو کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت سے اُس زمانہ تک کہ وہ جوان ہوتا ہے کس قدر تبدیلیاں اُس کی خوراک اور پوشاک میں ظہور میں آتی ہیں اور پھر جب انسانی بدن صحت سے منحرف ہو کر طرح طرح کے امراض میں گرفتار ہو جاتا ہے تو کس قدرنئی اور خاص تدبیریں عمل میں لانا مقتضائے ہمدردی ہوتا ہے یہی حال انسان کی روحانی حالت کا ہے اور جیسا کہ انسان اُس روٹی سے جی نہیں سکتا کہ کسی وقت اُس نے پہلے زمانہ میں کھائی تھی بلکہ ہمیشہ اس کو بھوک کے وقت ایک تازہ روٹی کی ضرورت ہے ایسا ہی انسان کو ضرورت کے زمانہ میں تازہ وحی اور الہام کی ضرورت ہے