براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 65

روحانی خزائن جلد ۲۱ نصرة الحق سے ۵۱ کامل تو حید ہے جو مدار نجات ہے جس کو اہل اللہ پاتے ہیں۔ پس یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ خدا اُن میں اُترتا ہے کیونکہ خلا اپنے تئیں بالطبع پر کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اُتر تا جسمانی طور سے نہیں ہے بلکہ اس طور سے ہے جو کیف اور کم سے بلند تر ہے ۔ غرض خدا کی خاص تجلی سے حقیقی راستبازوں میں وہ برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو خدا میں ہیں ۔ اور اُن کی زندگی معجزانہ زندگی ہو جاتی ہے وہ بدلائے جاتے ہیں۔ اور ان کا وجود ایک نیا وجود ہو جاتا ہے جس کو دنیا دیکھ نہیں سکتی ۔ پر سعید لوگ اُس کے آثار کو دیکھتے ہیں ۔ چونکہ اب وہ تجلی موجود ہے اور ایسے آثار تائیدات الہیہ کے نمایاں ہیں جو ہم میں اور ہمارے غیروں میں مابہ الامتیاز ہیں اس لئے ہم چند ایسے نشان تحریر کر کے حق کے طالبوں کو خدائے تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جو مامورین کی نسبت سنت اللہ ہے اور شریر معصوں پر خدائے تعالیٰ کی حجت پوری کرتے ہیں۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ الْكَرِيمِ الْقَدِير باب دوم أن نشانوں کے بیان میں جو بذریعہ اُن پیشگوئیوں کے ظاہر ہوئے جو آج سے پچیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھ کر شائع کی گئی تھیں واضح ہو کہ براہین احمدیہ میری تالیفات میں سے وہ کتاب ہے جو ۱۸۸۰ عیسوی میں یعنی ۱۲۹۷ ہجری میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کی تالیف کے زمانہ میں جیسا کہ خود کتاب سے ظاہر ہوتا ہے میں ایک ایسی گمنامی کی حالت میں تھا کہ بہت کم لوگ ہوں گے کہ جو میرے وجود سے بھی واقف ہوں گے۔ غرض اس زمانہ میں میں اکیلا انسان تھا جس کے ساتھ کسی دوسرے کو کچھ تعلق نہ تھا اور میری زندگی ایک گوشہ تنہائی میں گزرتی تھی اور اسی پر میں راضی اور