براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 66
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۶ نصرة الحق خوش تھا کہ ناگہاں عنایت ازلی سے مجھے یہ واقعہ پیش آیا کہ یکدفعہ شام کے قریب اسی مکان میں اور ٹھیک ٹھیک اسی جگہ کہ جہاں اب ان چند سطروں کے لکھنے کے وقت میرا قدم ہے مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے کچھ خفیف سی غنودگی ہو کر یہ وحی ہوئی :۔ حاشيه يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ آبَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ۔ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ * یعنی اے احمد ! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔ جو کچھ تو نے چلایا تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا ۔ وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اُس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی ۔ تا کہ تو اُن لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔ اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے اُن پر حجت پوری ہو جائے۔ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔ اس وحی کے نازل ہونے پر مجھے ایک طرف تو خدائے تعالیٰ کی بے نہایت عنایات کا دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۹ قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں۔ وہ سید نا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحا بہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اُس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے ۔ وَلِكُلِّ اَمْرٍ وَقُتٌ مَّعْلُوم ۔ اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہوا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔ منہ