براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 61
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۱ نصرة الحق کتاب نے لکھیں در حقیقت وہ الہامی ہیں یا کسی اور کتاب سے چرا کرلکھی گئی ہیں۔ اور اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ پھرائی ہوئی نہیں ہیں تو پھر بھی ہستی باری تعالی پر وہ کب دلیل قاطع ہو سکتی ہیں ۔ اور کب کسی طالب حق کا نفس اس بات پر پوری تسلی پاسکتا ہے کہ فقط وہی عقلی با تیں یقینی طور پر آیت خدا نما ہیں اور کب یہ اطمینان بھی ہوسکتا ہے کہ وہ باتیں بکلی غلطی سے مبرا ہیں ۔ پس اگر ایک مذہب صرف چند باتوں کو معقل یا فلسفہ کی طرف منسوب کر کے اپنی سچائی کی وجہ بیان کرتا ہے اور آسمانی نشانوں اور خارق عادت امور کے دکھلانے سے قاصر ہے تو ایسے مذہب کا پیر و فریب خوردہ یا فریب دہندہ ہے اور وہ تاریکی میں مرے گا۔ غرض محض عقلی دلائل سے تو خدائے تعالیٰ کا وجود بھی یقینی طور پر ثابت نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ کسی (۴۸) مذہب کی سچائی اُس سے ثابت ہو جائے ۔ اور جب تک ایک مذہب اس بات کا ذمہ دار نہ ہو کہ وہ خدا کی ہستی کو یقینی طور پر ثابت کر کے دکھلائے تب تک وہ مذہب کچھ چیز نہیں ہے اور بد قسمت ہے وہ انسان جو ایسے مذہب پر فریفتہ ہو۔ ہر ایک وہ مذہب لعنت کا داغ اپنی پیشانی پر رکھتا ہے جو انسان کی معرفت کو اُس مرحلہ تک نہیں پہنچا سکتا جس سے گویا وہ خدا کو دیکھ لے۔ اور نفسانی تاریکی روحانی حالت سے بدل جائے اور خدا کے تازہ نشانوں سے تازہ ایمان حاصل ہو جائے۔ اور نہ صرف لاف کے طور پر بلکہ واقعی طور پر ایک پاک زندگی مل جائے ۔ انسان کو کچی پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ اُس زندہ خدا کا اُس کو پتہ لگ جائے جو نا فرمان کو ایک دم میں ہلاک کر سکتا ہے اور جس کی رضا کے نیچے چلنا ایک نقد بہشت ہے۔ اور جس طرح ایک مذہب کیلئے صرف عقلی طور پر اپنی عمدگی دکھلانا کافی نہیں ہے ایساہی ایک ظاہری راستباز کیلئے صرف یہ دعوی کافی نہیں ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کے احکام پر چلتا ہے بلکہ اس کیلئے ایک امتیازی نشان چاہیے جو اُس کی راستبازی پر گواہ ہو کیونکہ ایسا دعویٰ تو قریباً ہر ایک کرسکتا ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے اور اس کا دامن تمام اقسام فسق و فجور سے پاک ہے مگر ایسے دعوے پر