براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 60
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۰ نصرة الحق کی بلاغت اور فصاحت سے پُر اور حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہیں بیان فرماتا ہے۔ غرض اصلی ۴۷) اور بھاری مقصد معجزہ سے حق اور باطل یا صادق اور کاذب میں ایک امتیاز دکھلانا ہے۔ اور ایسے امتیازی امر کا نام معجزہ یا دوسرے لفظوں میں نشان ہے۔ نشان ایک ایسا ضروری امر ہے کہ اُس کے بغیر خدائے تعالیٰ کے وجود پر بھی پورا یقین کرنا ممکن نہیں اور نہ وہ ثمرہ حاصل ہوناممکن ہے کہ جو پورے یقین سے حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ مذہب کی اصلی سچائی خدائے تعالیٰ کی ہستی کی شناخت سے وابستہ ہے۔ بچے مذہب کے ضروری اور اہم لوازم میں سے یہ امر ہے کہ اُس میں ایسے نشان پائے جائیں جو خدائے تعالیٰ کی ہستی پر قطعی اور یقینی دلالت کریں اور وہ مذہب اپنے اندر ایسی زبر دست طاقت رکھتا ہو جواپنے پیرو کا خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے ہاتھ ملا دے۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ صرف مصنوعات پر نظر کر کے صانع کی فقط ضرورت ہی محسوس کرنا اور اُس کی واقعی ہستی پر اطلاع نہ پا نا یہ کامل خداشناسی کیلئے کافی نہیں ہے اور اسی حد تک ٹھہرنے والے کوئی سچا تعلق خدائے تعالیٰ سے حاصل نہیں کر سکتے اور نہ اپنے نفس کو جذبات نفسانیہ سے پاک کر سکتے ہیں۔ اس سے اگر کچھ سمجھا جاتا ہے تو صرف اس قدر کہ اس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہیے نہ یہ کہ درحقیقت وہ صانع ہے بھی ۔ اور ظاہر ہے کہ صرف ضرورت کو محسوس کرنا ایک قیاس ہے جو رؤیت کا قائم مقام نہیں ہوسکتا اور نہ رؤیت کے پاک نتائج اس سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پس جو مذ ہب انسان کی خدا شناسی کو صرف ہونا چاہئے کے ناقص مرحلہ تک چھوڑتا ہے وہ اس کی عملی حالت کا چارہ گر نہیں ہے۔ پس درحقیقت ایسا مذہب ایک مردہ مذہب ہے جس سے کسی پاک تبدیلی کی توقع رکھنا ایک طمع خام ہے۔ ظاہر ہے کہ محض عقلی دلائل مذہب کی سچائی کے لئے کامل شہادت نہیں ہو سکتے اور یہ ایسی مہر نہیں ہے کہ کوئی جعلساز اس کے بنانے پر قادر نہ ہو بلکہ یہ تو عقل کے چشمہ کام کی ایک گداگری متصور ہو سکتی ہے۔ پھر اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ عقلی باتیں جو ایک