براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 59

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۹ نصرة الحق اب ہم بیان کرنا چاہتے ہیں کہ معجزہ کیا چیز ہے اور معجزہ کی کیوں ضرورت ہے۔ سو ہم اس کتاب کے پہلے باب میں معجزہ کی اصل حقیقت اور ضرورت بیان کریں گے اور دوسرے باب میں اپنے دعوی کے مطابق اُن معجزات کے چند نمونے بیان کر دیں گے اور تیسرا باب خاتمہ کا ہو گا جس پر رسالہ ختم ہو گا۔ پہلا باب معجزہ کی اصل حقیقت اور ضرورت کے بیان میں معجزہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ معجزہ ایسے امر خارق عادت کو کہتے ہیں کہ فریق مخالف اُس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز آ جائے خواہ وہ امر بظاہر نظر انسانی طاقتوں کے اندر ہی معلوم ہو جیسا کہ قرآن شریف کا معجزہ جو ملک عرب کے تمام باشندوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ پس وہ اگر چہ بنظر سرسری انسانی طاقتوں کے اندر معلوم ہوتا تھا لیکن اُس کی نظیر پیش کرنے سے عرب کے تمام باشندے عاجز آگئے ۔ پس معجزہ کی حقیقت سمجھنے کیلئے قرآن شریف کا کلام نہایت روشن مثال ہے کہ بظاہر وہ بھی ایک کلام ہے جیسا کہ انسان کا کلام ہوتا ہے لیکن وہ اپنی فصیح تقریر کے لحاظ سے اور نہایت لذیذ اور مصفی اور رنگین عبارت کے لحاظ سے جو ہر جگہ حق اور حکمت کی پابندی کا التزام رکھتی ہے اور نیز روشن دلائل کے لحاظ سے جو تمام دنیا کے مخالفانہ دلائل پر غالب آگئیں اور نیز ز بر دست پیشگوئیوں کے لحاظ سے ایک ایسا لا جواب معجزہ ہے جو با وجود گذر نے تیرہ سو برس کے اب تک کوئی مخالف اس کا مقابلہ نہیں کر سکا اور نہ کسی کو طاقت ہے جو کرے ۔ قرآن شریف کو تمام دنیا کی کتابوں سے یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ معجزانہ پیشگوئیوں کو بھی معجزانہ عبارات میں جو اعلیٰ درجہ