براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 53

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۳ نُصرة الحق بڑی آسانی سے ایک منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہود کے عقیدہ کے رُو سے جوشخص صلیب کے ذریعہ سے قتل کیا جائے وہ ملعون ہوتا ہے اور اُس کا رفع روحانی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور وہ شیطان کی طرف جاتا ہے۔ اب خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ حضرت عیسی کا رفع روحانی خدائے تعالی کی طرف ہوا یا نہ ہوا۔ سوخدا نے اوّل یہود کے اس وہم کو مٹایا کہ حضرت عیسی بذریعہ صلیب قتل ہو چکے ہیں اور فرمایا کہ یہود کا صرف یہ ایک شبہ تھا جو خدا نے اُن کے دلوں میں ڈال دیا۔ عیسی بذریعہ صلیب قتل نہیں ہوا تا اس کو ملعون قرار دیا جائے بلکہ اُس کا رفع روحانی ہوا جیسے کہ اور مومنوں کا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کو اس فضول بحث اور فیصلہ کی ضرورت نہ تھی کہ حضرت عیسی بجسم عصری آسمان پر گیایا نہ گیا کیونکہ یہود کا یہ متنازع فیہ امرنہ تھا اور یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو شخص مصلوب ہو جائے وہ مع جسم عصری آسمان پر نہیں جاتا کیونکہ اس سے تو لازم آتا ہے کہ جو شخص مصلوب نہ ہو وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا جاتا ہے اور نہ یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ بے ایمان اور لعنتی آدمی مع جسم آسمان پر نہیں جاتا مگر مومن مع جسم عنصری آسمان پر چلا جاتا ہے کیونکہ موسئی جو یہود کے نزدیک سب سے بڑا نبی تھا اس کی نسبت بھی یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر چلا گیا۔ پس تمام جھگڑا تو رفع روحانی کا تھا۔ یہود کی طرف سے اپنے عقیدہ کے موافق یہ بحث تھی کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی ملعون ہیں کیونکہ اُن کا رفع روحانی نہیں ہوا وجہ یہ کہ وہ صلیب کے ذریعہ سے مارے گئے پس اسی غلطی کو خدا تعالیٰ نے دور کرنا تھا سوخدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسی ملعون نہیں ہے بلکہ اُس کا رفع روحانی اور مومنوں کی طرح ہو گیا۔ یا در ہے کہ ملعون کا لفظ مرفوع کے مقابل پر آتا ہے جبکہ مرفوع کے معنے روحانی طور پر مرفوع ہو۔ پس جو لوگ حضرت عیسی کو بوجہ مصلوب ہونے کے ملعون ٹھہراتے ہیں اُن کے نزدیک ملعون کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ ایسے شخص کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ عیسائیوں نے بھی اپنی غلطی سے تین دن کے لئے حضرت عیسی کو ملعون مان لیا یعنی تین دن تک اُس کا رفع روحانی