براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 52
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۲ نُصرة الحق اور پھر جب مجھے وفات دی گئی تب سے میں اُن کے حالات سے محض بے خبر ہوں مجھے معلوم نہیں کہ میرے پیچھے کیا ہوا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ عذر اُن کا اس حالت میں کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں کسی وقت آئے ہوتے اور عیسائیوں کی ضلالت پر اطلاع پاتے ۔ محض دروغگو ئی ٹھہرتا ہے اور اس کا جواب تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ہونا چاہیے کہ اسے گستاخ شخص میرے روبرو اور میری عدالت میں کیوں جھوٹ بولتا ہے اور کیوں محض دروغ کے طور پر کہتا ہے کہ مجھے اُن کے بگڑنے کی کچھ بھی خبر نہیں حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ میں نے قیامت سے پہلے دوبارہ تجھے دنیا میں بھیجا تھا اور تو نے عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں اور اُن کی صلیب توڑی تھی اور اُن کے ختنر یرقتل کئے تھے اور پھر میرے رو برواتنا جھوٹ کہ گویا تجھے کچھ بھی خبر نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے عقیدے میں کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے کس قدر ان کی ہتک ہے اور نعوذ باللہ اس سے وہ دروغگو ٹھہرتے ہیں۔ اور اگر کہو کہ پھر ان حدیثوں کے کیا معنے کریں جن میں لکھا ہے کہ عیسی بن مریم نازل ہوگا اس کا یہ جواب ہے کہ اُسی طرح معنے کر لو جس طرح حضرت عیسی نے الیاس کے دوبارہ آنے کی نسبت معنے کئے تھے۔ اور نیز حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ وہ عیسی اسی امت میں سے ہوگا کوئی اور شخص نہیں ہوگا۔ اور یہ نہیں لکھا کہ دوبارہ آئے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ ' نازل ہوگا اگر دوبارہ آنا مقصود ہوتا تو اُس جگہ رجوع کا لفظ چاہیے تھا نہ نزول کا ۔ اور اگر فرض محال کے طور پر کوئی حدیث قرآن شریف سے مخالف ہوتی تو وہ رد کرنے کے لائق تھی نہ یہ کہ کسی حدیث سے قرآن شریف کو رد کیا جائے ۔ اور اس جگہ یادر ہے کہ قرآن شریف یہود و نصاری کی غلطیوں اور اختلافات کو دور کرنے کیلئے آیا ہے۔ اور قرآن شریف کی کسی آیت کے معنے کرنے کے وقت جو یہود نصاری کے متعلق ہو یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ اُن میں کیا جھگڑا تھا جس کو قرآن شریف فیصلہ کرنا چاہتا ہے اب اس اصول کو مدنظر رکھ کر اس آیت کے معنے کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۔۔۔۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ النساء : ۱۵۹،۱۵۸