براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 48

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۸ نصرة الحق وہ تمام مردے بہرے اور گونگے تو نہیں ہوں گے۔ اور جن لوگوں کو ایسے معجزات دکھلائے جاتے تھے کوئی اُن مُردوں میں سے اُن کا بھائی ہوگا اور کوئی باپ اور کوئی بیٹا اور کوئی ماں اور کوئی دادی اور کوئی دادا اور کوئی دوسرا قریبی اور عزیز رشتہ دار ۔ اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے کا فروں کو مومن بنانے کی ایک وسیع راہ کھل گئی تھی۔ کئی مُردے یہودیوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ ساتھ پھرتے ہوں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کئی شہروں میں اُن کے لیکچر دلائے ہوں گے۔ ایسے لیکچر نہایت پر بہار اور شوق انگیز ہوتے ہوں گے۔ جب ایک مردہ کھڑا ہوکر حاضرین کو سناتا ہوگا کہ اے حاضرین! آپ لوگوں میں بہت ایسے اس وقت موجود ہیں جو مجھے شناخت کرتے ہیں جنہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے دفن کیا تھا۔ اب میں خدا کے منہ سے سن کر آیا ہوں کہ عیسی مسیح سچا ہے اور اُسی نے مجھے زندہ کیا تو عجب لطف ہوتا ہوگا اور ظاہر ہے کہ ایسے مردوں کے لیکچروں سے یہودی قوم کے لوگوں کے دلوں پر بڑے بڑے اثر ہوتے ہوں گے۔ اور ہزاروں لاکھوں یہودی ایمان لاتے ہوں گے۔ پر قرآن شریف اور انجیل سے ثابت ہے کہ (۳۸) یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو رد کر دیا تھا اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے اُن کا گرا ہوا نمبر تھا اور تقریبا تمام یہودی اُن کو ایک مکار اور کا ذب خیال کرتے تھے۔ اب عقلمند سوچے کہ کیا ایسے بزرگ اور فوق العادت معجزات کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے تھا جبکہ ہزاروں مردوں نے زندہ ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کی گواہی بھی دے دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بہشت کو دیکھ آئے ہیں اُس میں صرف عیسائی ہیں جو حضرت عیسی کے ماننے والے ہیں اور دوزخ کو دیکھا تو اس میں یہودی ہیں جو حضرت عیسی کے منکر ہیں تو ان سب باتوں کے بعد کس کی مجال تھی کہ حضرت عیسی کی سچائی میں ذرہ بھی شک کرتا۔ اور اگر کوئی شک کرتا تو ان کے باپ دادا جو زندہ ہو کر آئے تھے اُن کو جان سے مارتے کہ اے نا پاک لوگو! ہماری گواہی اور پھر بھی شک ۔ پس یقیناً سمجھو کہ ایسے معجزات محض بناوٹ ہے۔