براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 47
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۷ نصرة الحق کتاب میں جواب تک موجود ہے میری نسبت یہ شائع کیا تھا کہ مجھے پر میشر کے الہام سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص تین برس میں ہیضہ کی بیماری سے فوت ہو جائے گا۔اور اس کے مقابل پر میں نے خدائے تعالیٰ سے واقعی اطلاع پا کر یہ اشتہار دیا تھا کہ لیکھر ام چھ برس کے اندر مارا جائے گا اور اُس کے مارے جانے کا دن اور تاریخ مقرر کر دی تھی ۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ یہ امتیازی نشان ہے جو مذہب اسلام کی سچائی پر گواہی دیتا ہے لیکن افسوس کہ آریہ صاحبوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ غرض سچا مذہب صرف عقل کا دریوزہ گر نہیں ہوتا کہ یہ اس کیلئے عار ہے اور اس سے شبہ گذرتا ہے کہ عقلمندوں کی باتیں چرا کر لکھی گئی ہیں کیونکہ دنیا میں عظمند تھوڑے نہیں گذرے ہیں بلکہ وہ (۳۷) علاوہ عقلی دلائل کے مذہب کی ذاتی خاصیت بھی پیش کرتا ہے جو آسمانی نشان ہیں اور یہی بچے مذہب کی حقیقی علامت ہے ہاں یہ سچ ہے کہ جو عوام الناس اور جاہل لوگ بعض مذاہب یا اشخاص کی نسبت خود تراشیدہ کرامات اور معجزات شائع کرتے ہیں جو نہایت مبالغہ آمیز باتیں ہوتی ہیں وہ کسی مذہب کا فخر نہیں ہیں بلکہ عار اور ننگ کی جگہ ہیں۔ اور ان فرضی معجزات کے ساتھ جس قدر حضرت عیسی علیہ السلام متہم کئے گئے ہیں اس کی نظیر کسی اور نبی میں نہیں پائی جاتی یہاں تک کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ہزاروں بلکہ لاکھوں مُردے زندہ کر ڈالے تھے۔ یہاں تک کہ انجیلوں میں بھی یہ مبالغہ آمیز باتیں لکھی ہیں کہ ایک مرتبہ تمام گورستان جو ہزاروں برسوں کا چلا آتا تھا سب کا سب زندہ ہو گیا تھا اور تمام مُردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔ اب عقلمند قیاس کر سکتا ہے کہ باوجودیکہ کروڑہا انسان زندہ ہو کر شہر میں آگئے اور اپنے بیٹوں ، پوتوں کو آکر تمام قصے سنائے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کی تصدیق کی مگر پھر بھی یہودی ایمان نہ لائے اور اس درجہ کی سنگ دلی کو کون باور کرے گا۔ اور در حقیقت اگر ہزاروں مُردے زندہ کرنا حضرت عیسی کا پیشہ تھا تو جیسا کہ عقل کے رو سے سمجھا جاتا ہے