براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 45
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۵ نصرة الحق نشان اس درجہ پر کھلی کھلی چیز نہیں ہے جس کے مانے کیلئے تمام دنیا بغیر اختلاف اور بغیر عذر اور بغیر چون و چرا کے مجبور ہو جائے۔ اور کسی طبیعت کے انسان کو اُس کے نشان ہونے میں کلام نہ رہے اور کسی نبی سے نبی انسان پر بھی وہ امر مشتبہ نہ رہے۔ غرض نشان اور معجزہ ہر ایک طبیعت کیلئے ایک بدیہی امر نہیں جود دیکھتے ہی ضروری التسلیم ہو بلکہ نشانوں سے وہی عقلمند اور منصف اور راستباز اور راست طبع فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی (۳۵) فراست اور دور بینی اور باریک نظر اور انصاف پسندی اور خدا ترسی اور تقوی شعاری سے دیکھ لیتے ہیں کہ وہ ایسے امور ہیں جو دنیا کی معمولی باتوں میں سے نہیں ہیں اور نہ ایک کا ذب اُن کے دکھلانے پر قادر ہو سکتا ہے اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ امور انسانی بناوٹ سے بہت دور ہیں اور بشری دسترس سے برتر ہیں اور اُن میں ایک ایسی خصوصیت اور امتیازی علامت ہے جس پر انسان کی معمولی طاقتیں اور پُر تکلف منصو بے قدرت نہیں پاسکتے اور وہ اپنے لطیف فہم اور نورِ فراست سے اس تہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ اُن کے اندر ایک نور ہے اور خدا کے ہاتھ کی ایک خوشبو ہے جس پر مکر اور فریب یا کسی چالا کی کا شبہ نہیں ہو سکتا۔ پس جس طرح سورج کی روشنی پر یقین لانے کے لئے صرف وہ روشنی ہی کافی نہیں بلکہ آنکھ کے نور کی بھی ضرورت ہے تا اس روشنی کو دیکھ سکے اسی طرح معجزہ کی روشنی پر یقین لانے کے لئے فقط معجزہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ نور فراست کی بھی ضرورت ہے اور جب تک معجزہ دیکھنے والے کی سرشت میں فراست صحیحہ اور عقل سلیم کی روشنی نہ ہو تب تک اس کا قبول کرنا غیر ممکن ہے مگر بد بخت انسان جس کو یہ نور فراست عطا نہیں ہوا وہ ایسے معجزات سے جوصرف امتیازی حد تک ہیں تسلی نہیں پاتا اور بار بار یہی سوال کرتا ہے کہ بجز ایسے معجزہ کے میں کسی معجزہ کو قبول نہیں کر سکتا کہ جو نمونہ قیامت ہو جائے۔ مثلاً کوئی شخص میرے رو بر و آسمان پر چڑھ جائے اور پھر رو بر وہی آسمان سے اُترے اور اپنے ساتھ کوئی ایسی کتاب لائے جو اُترنے کے وقت اس کے