براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 44
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۴ نصرة الحق ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اُس کو سنت اللہ کا علم نہیں اگر ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پر دے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔ یادر ہے کہ معجزہ صرف حق اور باطل میں فرق دکھلانے کیلئے اہل حق کو دیا جاتا ہے اور معجزہ کی اصل غرض صرف اس قدر ہے کہ عظمندوں اور منصفوں کے نزدیک سچے اور جھوٹے میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہو جائے اور اُسی حد تک معجزہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو مابہ الامتیاز قائم کرنے کیلئے کافی ہو۔ اور یہ اندازہ ہر ایک زمانہ کی حاجت کے مناسب حال ہوتا ہے اور نیز نوعیت معجزہ بھی حسب حال زمانہ ہی ہوتی ہے۔ یہ بات ہر گز نہیں ہے کہ ہر ایک متعصب اور جاہل اور بدطبع کو کیسا ہی مصلحت الہیہ کے برخلاف اور قدر ضرورت سے بڑھ کر کوئی معجزہ مانگے تو وہ بہر حال دکھلانا ہی پڑے۔ یہ طریق جیسا کہ حکمت الہیہ کے برخلاف ہے ایسا ہی انسان کی ایمانی حالت کو بھی مضر ہے کیونکہ اگر معجزات کا حلقہ ایسا وسیع کر دیا جائے کہ جو کچھ قیامت کے وقت پر موقوف رکھا گیا ہے وہ سب دنیا میں ہی بذریعہ معجزہ ظاہر ہو سکے تو پھر قیامت اور دنیا میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ حالانکہ اسی فرق کی وجہ سے جن اعمال صالحہ اور عقائد صحیحہ کا جو دنیا میں اختیار کئے جائیں ثواب ملتا ہے وہی عقائد اور اعمال اگر قیامت کو اختیار کئے جائیں تو ایک رقی بھی ثواب نہیں ملے گا۔ جیسا کہ تمام نبیوں کی کتابوں اور قرآن شریف میں بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کسی بات کا قبول کرنا یا کوئی عمل کرنا نفع نہیں دے گا اور اُس وقت ایمان لانا محض بیکار ہوگا کیونکہ ایمان اُسی حد تک ایمان کہلاتا ہے جبکہ کسی مخفی بات کو ماننا پڑے لیکن جب کہ پردہ ہی کھل گیا اور روحانی عالم کا دن چڑھ گیا اور ایسے امور قطعی طور پر ظاہر ہو گئے کہ خدا پر اور روز جزا پر شک کرنے کی کوئی بھی وجہ نہ رہی تو پھر کسی بات کو اُس وقت ماننا جس کو دوسرے لفظوں میں ایمان کہتے ہیں محض تحصیل حاصل ہوگا۔ غرض