براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 43
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۳ نصرة الحق نہ آیا۔ اور جب پوچھا گیا تو الیاس موعود کی جگہ یوحنا یعنی یکی نبی کو الیاس ٹھہرا دیا تا کسی (۳۳) طرح مسیح موعود بن جائے حالانکہ پہلے نبیوں نے آنے والے الیاس کی نسبت ہرگز یہ تاویل نہیں کی اور خود یوحنا نبی نے الیاس سے مراد وہی الیاس مراد رکھا جو دنیا سے گذر گیا تھا مگر مسیح نے یعنی یسوع بن مریم نے اپنی بات بنانے کیلئے پہلے نبیوں اور تمام راستبازوں کے اجماع کے بر خلاف الیاس آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دے دیا اور عجیب یہ کہ یوحنا اپنے الیاس ہونے سے خود منکر ہے مگر تا ہم یسوع ابن مریم نے زبر دستی اس کو الیاس ٹھہرا ہی دیا۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب تک کہتے ہیں کہ اُس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا صرف مکر و فریب تھا۔ اسی لئے حضرت مسیح کو کہنا پڑا کہ اس زمانہ کے حرام کار مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں انہیں کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ در حقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو مگر وہ شخص جو شب کو رہو جو رات کو کچھ دیکھ نہیں سکتا اس کیلئے یہ چاندنی کچھ مفید نہیں۔ ایسا تو ہر گز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اُسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہوگا۔ مثلاً دو تین سومردے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل اُن کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر بشہر دورہ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گواہی دیں اور لوگ اُن کو شناخت کرلیں کہ در حقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ہیں اور وعظوں اور لیکچروں سے شور مچادیں کہ در حقیقت شخص جو نبوت کا دعوی کرتا ہے سچا ہے۔ سو یا در ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے۔ اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی